خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 396
خطبات مسرور جلد 12 396 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء بہت دیر سے خط پہنچتا ہے۔اس دور میں انٹرنیٹ اور ای میل وغیرہ کی اتنی سہولت میسر نہیں تھی۔اس پر وہاب صاحب نے اسے بتایا کہ دیکھو جب میں ربوہ تعلیم حاصل کر رہا تھا تو میری ماں تک میرے خطوط پہنچنے میں چھ مہینے کا وقت لگتا تھا۔آپ لوگوں کو اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ آج کل سہولتیں میسر ہیں۔پھر محنت کی عادت کے بارے میں کہتے ہیں کہ بعض اوقات ہم نے دیکھا کہ فجر کی نماز کے بعد کام شروع کرتے اور سوائے نمازوں اور کھانے کے وقفہ کے سارا دن اور ساری رات یہاں تک کہ اگلی فجر کا وقت آ جاتا کام میں مصروف رہتے۔اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جب آپ بیماری کی وجہ سے زیادہ بیٹھ نہیں سکتے تھے تو انہیں لیٹ کر کام کرتے دیکھا ہے۔لیٹے لیٹے لمبے چوڑے خطوط لکھتے اور نوٹس لکھتے تھے۔آخر تک ان کے خط مجھے آتے رہے ہیں۔خاص طور پر مجھے جو خط لکھتے تھے ہمیشہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔اور ایک خوبی یہ تھی کہ اردو میں لکھتے تھے۔خوش مزاجی صبر اور حوصلے کے بارے میں ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ بہت خوش مزاج انسان تھے۔مثال کے طور پر بیماری کے دنوں میں ہمیں پتا تھا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور زندگی کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اپنی تکلیف کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ جب بھی ہم ان سے پوچھتے تو یہی کہتے کہ اب پہلے کی نسبت بہتر ہیں حالانکہ ہمیں نظر آ رہا تھا کہ وہ دن بدن کمزور ہور ہے ہیں۔اپنی بیماری کے ان سخت ایام میں بھی ہمیں لطائف سناتے رہے۔ان کو جیسی بیماری تھی اس کا بڑے صبر سے انہوں نے مقابلہ کیا ہے اور یہ وہی کر سکتا ہے جس کو اللہ پر کامل ایمان ہو اور یہ صبر جو ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا ہو۔اُس وقت بعض لوگ اظہار کرتے رہے کہ شاید ان کو پتا نہیں کہ بیماری کی شدت کیا ہے۔ان کو کینسر کی بیماری تھی ، پینکریاز (Pancreas) کا کینسر تھا۔لیکن لوگ غلط تھے ، ان کو سب کچھ پتا تھا۔یہ اس بات پر راضی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسی زندگی دی الحمد للہ بڑی اچھی دی اور اس بات پر بھی راضی تھے کہ اللہ تعالیٰ بیماری سے شفا دے یا جو بھی اس کی تقدیر ہے وہ آ جائے۔اس بارے میں زبیر خلیل صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ برس جرمنی میں چیک آپ کروانے کے لئے خاکسار کو ان کے ساتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس جانے کی توفیق ملی۔ڈاکٹر نے جب ان کی جان لیوا بیماری کے بارے میں مطلع کیا تو ہنس کے فرمانے لگے۔میرا ایک خدا ہے اور خلیفہ وقت کو بھی ہم دعا کے لئے کہتے ہیں جو ہمارے لئے دعائیں کرتا ہے۔اگر اللہ کی مرضی میری وفات میں ہے تو میں اس پر بھی راضی ہوں۔ڈاکٹر یہ باتیں سن کر بڑا متاثر ہوا۔