خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 373 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 373

خطبات مسرور جلد 12 373 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء تھا۔اس سال جو نمایاں طور پر ایک چیز نظر آئی وہ یہ تھی کہ جرمن نژاد احمدیوں کی غیر معمولی حاضری تھی۔انہوں نے کہا اس جلسہ میں ہمیں نظر بھی آیا کہ جماعت احمدیہ کے علاوہ دیگر مسلمان فرقوں میں صرف دعاوی اور لفاظی ہی نظر آتی ہے جبکہ اسلام کا حقیقی عملی نمونہ صرف جماعت احمدیہ کا ہی طرہ امتیاز ہے۔ہنگری سے آنے والے وفد کے تاثرات یہ تھے۔ایک مہمان ٹیچر جو تاریخ کے ٹیچر تھے۔یہودیت میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت محبت اور پیار اور رضا کارانہ خدمت کرنے میں بہت آگے ہے۔اتفاق و اتحاد بہت واضح نظر آتا ہے۔بیعت کی تقریب میں کہا کہ یہ نظارہ دل کو کھینچنے والا اور موہ لینے والا تھا۔ایک ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اتحاد کا ایک دلفریب نقشہ ابھرتا ہے۔نماز باجماعت پڑھتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور ان کے لئے یہ ایک منفرد اور انوکھی بات تھی۔بہت ہی پر اثر نظارہ تھا۔موصوف نے کہا کہ جماعت کے افراد اپنے خلیفہ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔یہ محبت بے لوث اور خالص محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں کچھ بناوٹ تصنع یا تکلف نہیں لگا۔بلکہ لگتا ہے جماعت کی اپنے خلیفہ سے محبت کسی فطری اور طبعی جذ بہ سے ہے۔اور یقینایہ مسیح بات ہے۔پھر ہنگری کے وفد کے ایک مسٹر رابرٹ (Mr Robert) ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جلسے کے انتظامات سے بہت متاثر ہوا۔اس سے بڑا مسلمانوں کا اجتماع پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔رومانیہ سے جو وفد آیا تھا اس میں ایک سیرین دوست تھے حسین الحافظ صاحب جو بڑے لمبے عرصے سے رومانیہ میں رہتے ہیں۔وہاں بزنس کرتے ہیں۔کہتے ہیں جب جلسہ میں شامل ہوئے تو وہاں ہمارے جو ایک مبلغ ہیں ان سے کہنے لگے کہ خلیفہ اسی کو ہم دُور سے دیکھیں گے یا قریب سے بھی دیکھنے کا موقع ملے گا۔جب انہوں نے بتایا کہ ملاقات بھی ہو گی تو اس پر ان کو یقین نہیں آیا۔لیکن بہر حال ملاقات ہوئی اور اس بات پر بڑے خوش تھے۔بڑی مسرت کا اظہار کیا۔مبلغ صاحب کہتے ہیں کہ جلسے کے پہلے دن سے انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ خلیفہ سے محبت کرتے ہیں اور بار بار کہتے کہ سارے عالم اسلام کا ایک خلیفۃ المسلمین ہو تو مسلمانوں کے مسائل حل ہو جائیں کیونکہ خلیفہ ہی ہے جو ہمیں سیدھا اور صحیح راستہ دکھا سکتا ہے۔ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اس بات کا اظہار کیا۔پھر ہمارے مبلغ سے انہوں نے پوچھا کہ خلیفہ کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ اس پر انہوں نے خلافت کے بارے میں بتایا کہ کس طرح خلافت راشدہ کا بھی انتخاب ہوا اور اب بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انتخاب کرنے والوں کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے اور وحی خفی کے ذریعہ سے اکٹھا کر دیتا ہے۔وحی خفی اور تصرف الہی کا پہلو ان کی سمجھ میں نہیں آیا لیکن شام ہوئی تو