خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 374
خطبات مسرور جلد 12 374 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء کہتے ہیں میرا یہ مسئلہ حل ہو گیا۔جب میں لجنہ سے خطاب کر کے نماز ظہر کے لئے واپس آیا ہوں تو اس وقت لوگ لائنوں میں کھڑے تھے تو یہ کہتے ہیں میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا۔جب میں ان کے پاس سے گزرا ہوں تو کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت پر میری نظر پڑی تو بے اختیار اور بلا ارادہ میرا ہاتھ سلام کے لئے فضا میں بلند ہو گیا۔کہتے ہیں یہ بے اختیار فعل تھا۔اس پر تصرف الہی اور وحی خفی کا عقدہ حل ہو گیا۔یہ بھی کہا کہ عادتاً وہ عام طور پر ہاتھ بلند کر کے اور لہرا کر کسی کو سلام نہیں کرتے خواہ کوئی بڑا شخص ہی ہو۔لیکن اب جو مجھ سے ہوا ہے یہ یقیناً تصرف الہی ہے اور ایسا کرنا میرے اختیار میں نہیں تھا۔بہت حد تک قائل ہو چکے ہیں۔مجھے بھی انہوں نے بتایا کہ مزید تھوڑ اسا سوچ کر وہ جماعت میں انشاء اللہ شامل ہو جائیں گے۔پھر یو نیورسٹیوں سے آئے ہوئے لتھوینیا کے تین مہمان تھے۔ایک طالبعلم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ ان مغربی مفکرین کے لئے بہت مفید ہے جو اسلام کے بارے میں کم معلومات یا منفی خیالات رکھتے ہیں کیونکہ یہ جلسہ ان کی محدود سوچ کو وسیع کر سکتا ہے۔آپ لوگ بہت مثبت خیالات کے مالک ہیں۔اور ہر وقت چہرے پر بشاشت اور مسکراہٹ رہتی ہے۔اور جب مجھ سے ملے ہیں پھر بھی ان پر بڑا اچھا اثر تھا۔پھر ایک طالبہ نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمیں اس چیز نے بہت متاثر کیا ہے کہ بہت پرسکون حمل اور برداشت والا ماحول ہے۔آپ لوگوں کے اندر رہ کر اسلام کا حقیقی چہرہ دیکھنے کا موقع ملا۔اور انہوں نے کہا کہ نمازوں کے دوران بھی ایک عجیب نظارہ تھا۔پھر اس بات پر وہ متاثر ہوئیں کہ ایک موقع پر جب میں نے مجمع کو کہا تھا کہ خاموش ہو جاؤ تو فور خاموش ہو گئے۔یہ کیسی اطاعت ہے۔پھر ایک طالبہ نے بیان کیا کہ مجھے مذاہب میں کافی دلچسپی ہے۔میرے لئے یہ بات اہم ہے کہ آج کے دور میں لوگ ایک دوسرے کے بارے میں کیسی رائے رکھتے ہیں۔جلسہ میں شریک ہو کر اسلام کے بارے میں اور اسی طرح دوسرے لوگوں اور خاص طور پر اپنے آپ کو جانے اور سمجھنے کا بھی موقع ملا۔کروشیا سے جو وفد آیا تھا ان کے ایک صاحب اپنے علاقے میں شعبہ زراعت سے منسلک ہیں۔سوشل ویلفیئر کے کمیونٹی لیڈر بھی ہیں اور باقی خواتین تھیں جو یونیورسٹی میں قانون اور پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری لے رہی ہیں۔تو کہتے ہیں کہ ملاقات کے دوران جو اُن سٹوڈنٹس نے مجھ سے سوالات کئے تھے۔تقریباً آدھ گھنٹے سے زیادہ یہ سوال جواب ہوتے رہے۔اسلام کے بارے میں تعصب سوشل میڈیا کا رویہ، مذہب سے دوری کا سبب، اسلام میں عورت کا مقام اور حقوق پر مبنی بہت سے سوالات ہوئے۔