خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 372
خطبات مسرور جلد 12 372 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء بارے ہماری سوچوں کو تبدیل کر دیا ہے۔پھر میسیڈونیا سے ہی ایک مہمان Martincho (مارنچو ) صاحب کہتے ہیں کہ میں روح کی گہرائی تک خوش اور مطمئن ہوں اور خاص طور پر خلیفہ کی تقاریر کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں امن کی طرف بلایا ، برداشت کی طرف بلایا، محبت کی طرف بلایا۔ہم سب جانتے ہیں کہ ہم ایک ایسے وقت میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ برداشت کا لیول اس وقت صفر ہے اور یہ وہ وقت ہے جب جنگیں ہو رہی ہیں اور ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔پھر ایک پروفیسر صاحب تھے Sashko (ساشکو) صاحب وہ کہتے ہیں کہ اس جلسے پر میں نے امام جماعت احمدیہ کے خطابات سے اسلام کے بارے میں اپنے علم میں مزید اضافہ کیا ہے۔میں ان کا بہت شکر گزار ہوں۔اور پھر ملاقات کا ذکر کیا کہ ملاقات میری کل ہوئی اور یہ بہت انوکھی ملاقات تھی۔بہت دلچسپ تجربہ حاصل ہوا۔انہوں نے ہمیں بہت وقت دیا۔تفصیل سے ہمارے سوالات کے جواب دیئے اور احمدیت اور اسلام کے بارے میں ہمیں نئی چیزیں سننے کو ملیں اور ہمیں علم ہوا کہ احمدی جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں۔میسیڈونیا سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فائنل ائیر کی ایک طالبہ کہتی ہیں۔میرے لئے بہت متاثر کن تھا اور میں بہت حیران تھی۔پھر جو امام جماعت احمدیہ سے میری ملاقات ہوئی میرے لئے ایک نئی قسم کا تجربہ تھا۔اس ملاقات نے میری مدد کی کہ میں جماعت احمدیہ کو بہتر انداز میں سمجھ سکوں۔پھر میسیڈونیا سے ہی ایک مہمان نے اسی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے انہوں نے تجویز دی کہ تمام مذاہب کو محبت پر اکٹھا کیا جائے۔اپنی تجویز کا ذکر کر رہے ہیں کہ ایسا پروگرام ہو تو پھر میرا جواب انہوں نے بتایا کہ ہم تو پہلے سے اس بارے میں کوشش کرتے ہیں اور پھر ان کو تفصیل سے جو گلڈ ہال میں پروگرام ہوا تھا اس کے بارے میں بتایا گیا۔اس کا بڑا اچھا اثر ہوا۔البانیا سے اکیس افراد پر مشتمل وفد آیا تھا جس میں دس غیر احمدی اور گیارہ احمدی تھے۔اور ایک سابق فوجی جو فوج کے عہدے پر بڑا لمبا عرصہ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا ڈسپلن میں نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھا اور افراد جماعت میں رضا کارانہ خدمات کے جذبہ کا یوں پایا جانا بھی ایک خوش کن تجربہ تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی مہمانوں کو پانی پلا کر نہایت مسرت محسوس کر رہے تھے۔پھر ایک البانین مہمان تھے جو بلدیہ کے نائب صدر بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں گزشتہ سال بھی آیا