خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 360

خطبات مسرور جلد 12 360 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014 ء آپ نے وضاحت بھی فرما دی کہ قیام رکوع و سجود ہیں کیا ؟ کس طرح کئے جاسکتے ہیں؟ فرمایا دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو۔دل کا قیام اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ کے حکموں پر قائم ہو جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کون سے ہیں وہ حکم ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں اور قائم ہونا یہ ہے کہ ان کو اس مضبوطی سے پکڑے رکھنا کہ کبھی نہ گریں۔نہ آپ گریں نہ آپ سے وہ دور ہوجائیں۔کبھی ان کا سہارا نہ چھوٹے۔کبھی انہیں تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں۔دل کا رکوع یہ ہے کہ ہر معاملے میں خدا تعالیٰ کے حضور جھکے۔کوئی دنیاوی وسیلے کوئی دنیاوی ذریعے یا خیال دل میں پیدا نہ کریں کہ ان سے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔پھر دل کا سجدہ کیا ہے؟ فرمایا دل کا سجدہ یہ ہے کہ اپنے وجود سے دست بردار ہو جاؤ۔خدا تعالیٰ کے رضا کی حصول کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دو۔اپنے جذبات کو قربان کر دو۔اپنے عزیزوں کی قربانی دو۔تعلقات کی قربانی دو۔اپنی اناؤں کو قربان کر دو۔اپنی غیرتوں کی جھوٹی غیرتوں اور جھوٹی اناؤں کی قربانی دو۔یعنی وہ باتیں جو تم غیرت سمجھتے ہو لیکن یہ غیرت خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہے اس کو قربان کرنا ہو گا۔غیرت دکھانی ہے تو دین کی غیرت ہونی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف کوئی چلانے کی کوشش کرے تو وہاں غیرت دکھانی چاہئے۔گویا کہ ہمارے ہر عمل ایسے ہو جائیں یا انہیں ایسا کرنے کی کوشش میں ہم لگ جائیں جو ہمارے دلوں کو پاک کرنے والی ہو۔آپ فرماتے ہیں: میں تو اپنی جماعت سے یہ چاہتا ہوں اور امید بھی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے افراد جماعت کی یہ حالت کر دے گا۔آپ نے فرمایا جو اس حالت کے حصول کے لئے کوشش نہیں کرتے ان کا پھر میرے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ ہم میں سے کوئی بھی کبھی ان لوگوں میں شامل ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنا تعلق توڑنے والے ہوں بلکہ ہم میں سے ہر ایک اس کوشش میں ہو کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تعلق کو کس طرح مضبوط سے مضبوط تر کر سکتے ہیں۔پس جلسہ پر آنے والے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ان دنوں میں اپنے جائزے لیں، دیکھیں کہ کس حد تک ہم وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے چاہتے ہیں۔جلسہ کے دنوں میں یہ ماحول اللہ تعالیٰ نے میسر فرمایا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کے عملی اظہار ہو سکتے ہیں اور پھر ان عملی اظہاروں کو زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی کوشش ہو۔انشاء اللہ تعالیٰ اس مہینہ کے آخر میں رمضان کا مہینہ بھی شروع ہو رہا ہے جو عملی تربیت کا مہینہ ہے۔اگر ان دنوں کی برکتوں کو رمضان المبارک کی عظیم برکتوں سے جوڑنے کی کوشش کریں تو ایک روحانی انقلاب