خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد 12 359 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014 ء کی نیندیں الگ اڑ رہی ہیں۔گو بعض لڑکوں سے بھی یہ زیادتیاں ہو رہی ہیں اور لڑکی یا لڑکی کے ماں باپ یہ زیادتیاں کر رہے ہیں۔ماں باپ کا کرداران زیادتیوں میں زیادہ ہے لیکن مرد پھر بھی مرد ہونے کی وجہ سے اپنے نقصان کو پورا کرنے کی کوشش کر لیتا ہے۔گو تکلیف سے ہی سہی لیکن اس کا یہ وقت گزر ہی جاتا ہے لیکن عورت کو تو معاشرے کی نظریں بھی تکلیف دے رہی ہوتی ہیں۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا پیچھے بیٹھے ہوئے اس کے والدین الگ پریشان ہو رہے ہوتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کو جو جان بوجھ کر بلا وجہ صرف اپنی ذاتی اناؤں کی وجہ سے ایسی حرکتیں کر رہے ہوں چاہے کوئی بھی فریق ہوا نہیں خدا کا خوف کرنا چاہئے۔پھر بعض دفعہ عہدے دار بھی خدا کا خوف نہیں کرتے اور غلط طرف داریاں کر کے اس ظلم میں شامل ہو جاتے ہیں۔پس خدا کا خوف رکھتے ہوئے ہر ایک کو اپنے آپ کو روحانی بیماریوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ نجات انہی کو ہے جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل ہیں۔پس ان درد بھرے الفاظ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔کیا ہمارے دل دنیا کے جذبات سے بیزار ہیں یا دنیاوی جذبات ہمیں اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہر قسم کی برائیوں سے بچے ہوئے ہیں؟ کوئی ہمارے حقیقی عمل کو جانتا ہے یا نہیں جانتا۔ہم کیا کرتے ہیں یہ کسی کو پتا ہے یا نہیں پتا لیکن کیا خدا کو حاضر ناظر جان کر ہم اپنے آپ کو ہر قسم کی گندگیوں اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچا کر خدا تعالیٰ کی نظر میں بری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے دل خدا تعالیٰ کے حق ادا کرنے اور اس کی مخلوق کے حق ادا کرنے میں صاف ہیں؟ یا کم از کم ہم انہیں حتی المقدور صاف رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اور اس کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگ رہے ہیں؟ اگر نہیں تو ہماری حالت قابل فکر ہے۔کیا ہمارے سجدے فروتنی اور عاجزی کے سجدے ہیں؟ فروشنی کا سجدہ وہ ہے جو اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتا ہے۔ظاہری سجدوں کا حال تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرما دیا کہ فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ (الماعون : 5)۔کہ ظاہری سجدے کرنے والے نمازیوں پر ہلاکت ہے۔خدا نہ کرے خدا نہ کرے کہ ہم میں سے کوئی خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مور د بن کر ہلاکت میں پڑے لیکن خدا تعالیٰ بے نیاز ہے۔ہمیشہ اس کے خوف کی ضرورت ہے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔وہ قیام اور رکوع و سجود ہمیں کرنے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں جن کے نمونے قائم کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تھے۔