خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد 12 361 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014 ء ہم میں پیدا ہو سکتا ہے۔اور اگر اس نیت سے جلسے پر نہیں آئے یا یہ دن کوئی تبدیلی پیدا کرنے والے نہ بن سکے یا ان کے لئے کوشش نہ کی تو اس جلسے پر آنا نہ آنا ایک جیسا ہے۔بلکہ بعض دفعہ نقصان کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ایک مجمع ٹھوکر کا باعث بھی بن جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا ایک شخص کا ایک واقعہ بیان کرتے تھے کہ جس کی بد بختی کی وجہ سے اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ الٹا ایمان ضائع کر کے چلا گیا۔اس لئے کہ اس کی انا اور اس کی جھوٹی نیکی کا اظہار اس کے آڑے آ گیا۔واقعہ یوں ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لاتے تھے تو لوگ زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے تھے کہ آپ کے قریب تر ہو جائیں اور آپ کی باتیں سنیں اور ان سے فیض اٹھا ئیں۔اپنی روحانیت کی تسکین کریں۔اس کو بڑھانے کی کوشش کریں۔ایسی ہی ایک مجلس میں ایک شخص آیا اور آ کے مسجد میں ایک طرف یا تقریباً بیچ میں ہی سنتیں پڑھنی شروع کر دیں۔اور اتنی لمبی سنتیں پڑھنی شروع کر دیں کہ اس کے ارد گرد جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ہونا چاہتے تھے، ان میں بے چینی شروع ہوگئی۔آخر بعض دوسرے جو دوسری طرف سے آ رہے تھے قریب آنے شروع ہوئے تو انہوں نے بھی جرات کی اور آگے بڑھنے شروع ہو گئے۔تو بعض لوگ جب تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے تو کسی کی کہنی اس سنتیں پڑھنے والے شخص کو لگ گئی۔اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ اچھا نبی اور مسیح موعود ہے کہ اس کی مجلس کے لوگ نماز پڑھنے والوں کو ٹھوکریں مارتے ہیں۔سخت ناراض ہوا اور مرتد ہو کے چلا گیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 544 تا 546 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 1919ء) یہ اس کی بد بختی تھی۔وہی مجلس جو لوگوں کے ایمانوں میں اضافہ کر رہی تھی ، ایمان میں ترقی کا باعث ہو رہی تھی اس کے لئے ٹھوکر کا باعث بن گئی۔پس اس کا یہ عمل ظاہر کر گیا کہ اس کے رکوع وسجود دکھاوے کے لئے تھے۔اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی مجلس جس میں تازہ مائدہ اتر رہا ہو اور روحانی خزائن تقسیم ہورہے ہوں اس کو چھوڑ کر وہاں اپنی نمازوں کے اظہار میں لگ گیا اور اس عمل نے اس کا ایمان بھی ضائع کر دیا۔پس گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجالس تو اب نہیں ہیں لیکن آپ کی تعلیم کی روشنی میں یہی باتیں ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی تفسیریں بیان ہوتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی روشنی میں تربیت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔معین پروگرام ہوتے ہیں۔نمازیں بھی ہیں اور تہجد بھی ہے۔سارے پروگرام اپنے وقت پر ادا کئے جاتے ہیں ہر پروگرام میں اس کے وقت پر ہر ایک کو شامل ہونا چاہئے اور