خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد 12 354 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء رپورٹ کے لئے کوئی بات بھیجی جائے اس پر تحقیق کریں اور اطلاع دیں۔جہاں خلیفہ وقت کے کسی حکم کی واضح طور پر سمجھ نہ آئے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا ہے وہاں یہ کہنے کی بجائے کہ اس کا یہ مطلب ہے اور وہ مطلب ہے مجھ سے لکھ کر پوچھیں کہ اس بات کی مزید وضاحت چاہئے ہمیں یہ واضح نہیں ہوئی۔اس بات کا کیا مطلب ہے۔اسی طرح ہر فرد جماعت کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ کامل اطاعت کرے۔جب ہر ایک کامل اطاعت کرے گا تو روحانی بلندیوں کی طرف ہمارے قدم انشاء اللہ بڑھیں گے۔یہی اس آیت کا مطلب ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب روحانی بلندیوں پر جاؤ گے تو ایمان بھی اس طرح مضبوط ہوں گے جس طرح پہاڑ مضبوطی سے زمین میں گڑھے ہوئے ہیں اور اس روحانی عروج اور مضبوطی ایمان کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم زمین پر اسلام کا پیغام لے کر پھیل جاؤ گے۔تمہاری ترقی انشاء اللہ تعالیٰ مشرق میں بھی ہوگی اور مغرب میں بھی ہوگی۔یورپ بھی تمہارا ہوگا اور ایشیا بھی۔امریکہ بھی تمہارا ہوگا اور افریقہ بھی۔آسٹریلیا میں بھی حقیقی اسلام کا جھنڈا لہرائے گا اور جزائر میں بھی۔اسلام کے پھیلنے کے حوالے سے میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں۔یہاں میں نے یہ سنا ہے کہ ایک اعتراض کرنے والے کی یہ بات سن کر آپ میں سے بعض پریشان ہو جاتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا کہ جرمنی فتح ہو گیا تو یورپ فتح ہو گیا۔جلسہ پر یہ بینر لگا ہوا تھا تو کسی نے دیکھ کر یہ اعتراض کیا کہ گویا آپ یہاں جرمنی کو فتح کرنے آئے ہیں۔ظاہراً آپ نرمی اور پیار کا نعرہ لگاتے ہیں اور لبادہ اوڑھا ہوا ہے لیکن آپ کے عزائم خطر ناک ہیں۔یہ بات کہنے والے کی بھی بے سمجھی ہے۔بے عقلی ہے یا شرارت ہے۔اگر شرارت ہے تو خطر ناک ہے کہ اس طرح مسلمانوں کے خلاف بھڑ کانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جماعت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اور سمجھانے والے کی بھی کم علمی ہے اور بلا وجہ کی پریشانی ہے کہ اس سوال سے پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔عمومی طور پر یہاں کے رہنے والے لوگ، مقامی جرمن لوگ عقل رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو جماعت دنیا میں مشنری کام کر رہی ہے اور خدمت خلق کے کام کر رہی ہے، تبلیغ اسلام کر رہی ہے تو اس لئے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو بتا کر انہیں اسلام سے قریب کرے اور اس میں شامل کرے۔فتح کے لفظ سے قطعا یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خدانخواستہ ہم نے تلوار چلانی ہے یا حکومتوں پر قبضہ کرنا ہے۔ہم تو سب سے پہلے یہ اعلان کرتے ہیں کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔یہ ہر ایک کے دل کا معاملہ ہے۔پس اس میں پریشان ہونے والی تو کوئی بات نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہم دنیا میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔جرمنی کیا اور یورپ کیا ہمیں تو انشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا کو فتح کرنا ہے۔لیکن تلوار