خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 353

خطبات مسرور جلد 12 353 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014 ء کا جھنڈا لہرانا ہے۔ہم نے دنیا کے دل جیت کر دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے۔اسی مقصد کے لئے ہمارے تبلیغی پروگرام ہیں اور دوسرے پروگرام ہیں۔اس کے حصول کے لئے ہماری دعاؤں کی طرف توجہ ہے اور ہونی چاہئے۔پس خلافت تو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس کے لئے اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خلافت ہے کیا ؟ اور یہ بات اسی وقت سمجھ آئے گی جب کامل اطاعت پر یقین پیدا ہو گا۔کوئی جتنا جتنا بھی اپنے آپ کو عالم مدبر یا مقرر سمجھتا ہے، اگر اطاعت نہیں ہے تو نہ ہی جماعت احمدیہ میں اس کی کوئی جگہ ہے، نہ اس کا یہ علم اور عقل دنیا کو کوئی روحانی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام کو اپنا شعار بناوے۔پس جب مکمل طور پر خلیفہ وقت کی پیروی اور اطاعت اختیار کر لیں گے۔خلیفہ وقت کی طرف سے ملنے والی ہدایات اور حکموں پر عمل کریں گے اور ان کی تو جیہیں اور تاویلات نکالنی بند کر دیں گے تو علم بھی اور عقل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے شمر آور ہوگی اور پھل پھول لائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تفسیر پر بنیادر کھتے ہوئے جب ہم باقی آیات جو میں نے تلاوت کی تھیں ان کو بھی دیکھیں تو مزید معانی کھلتے ہیں کہ روحانی آسمان کی بلندیوں کو بھی انسان اُسی وقت چھو سکتا ہے جب اطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء: 60) کے مضمون کو سمجھیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا عہدیداران اپنے آپ کو اولی الامر سمجھ کر اپنی اطاعت کروانے کے اس وقت تک حقدار نہیں کہلا سکتے جب تک خلافت کی کامل اطاعت اپنے اوپر لاگو نہیں کرتے اور تاویلیں کرنے سے پر ہیز نہیں کرتے۔بلکہ خلیفہ وقت کے ہر لفظ کو اپنے لئے قابل اطاعت سمجھ کر اس پر عمل کریں۔بعض دفعه بعض معاملات تحقیق کے لئے جب بھیجے جائیں تو پہلی یہ کوشش ہوتی ہے کہ یہ پتا کرو کہ شکایت کس نے کی ہے۔بجائے اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ بات سچ ہے یا غلط ہے۔اگر تحقیق میں سچائی ہے تو اس کے لئے مداوا ہونا چاہئے اس کا حل ہونا چاہئے اور جو بھی کمی ہے اس کو پورا ہونا چاہئے اور غلط ہے تو پھر رپورٹ دے دی جائے کہ غلط ہے کسی نے یونہی بات کر دی تحقیق بعد میں کی جاتی ہے، پہلے اس شخص کا پتا کھوج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون ہے وہ یا کون نہیں ہے۔اس سے کسی عہد یدار کو غرض نہیں ہونی چاہئے کہ کس نے شکایت کی ہے کس نے اطلاع دی ہے۔آپ کا کام یہ ہے کہ جور پورٹ بھیجی جائے ،