خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 332

خطبات مسرور جلد 12 332 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء اہلیہ نے بتایا کہ میرے ساتھ بھی بے حد نرم رویہ رکھتے تھے۔ہر طرح دلداری کرتے۔غلطیوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔بچوں کے لئے بڑے شفیق اور مہربان باپ تھے۔بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کا ہر وقت خیال رکھتے تھے۔انتہائی منکسر المزاج تھے۔یہ کہتی ہیں کہ مجھے اگر کسی بات پر غصہ آ جاتا تو ہمیشہ کہتے غصہ نہیں کرتے۔طبیعت میں عاجزی اور انکساری بہت تھی۔سسرالی رشتہ داروں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ان کی خوشدامن نے بتایا کہ میں پانچ سال امریکہ جا کے ان کے پاس رہی اور انہوں نے کبھی اونچی آواز سے بات نہیں کی اور ہمیشہ اپنی ماں کی طرح میرا عزت و احترام کیا۔مہمان نوازی ان کا ایک بہت بڑا شیوہ تھا۔جماعتی تقریبات کے موقع پر اپنے گھر میں مہمان ٹھہرانے کا اہتمام کرتے۔پھر ائیر پورٹ سے لانے لے جانے کا کام کرتے۔غریبوں اور ضرورتمندوں کی کثرت سے امداد کیا کرتے تھے۔شہید اپنے شعبہ کے علاوہ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے۔ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ان کا مجموعہ کلام 'برگ خیال کے نام سے طباعت کے مراحل میں ہے۔اسی طرح کیلیگرافی بھی اچھی کر لیتے تھے۔ان کا خلافت سے انتہائی گہری محبت اور خلوص کا تعلق تھا اور ہر تحریک پر فوری لبیک کہنے والے تھے۔بڑھ چڑھ کر چندہ دیتے تھے۔کولمبس کی مسجد کی تعمیر میں بھی ایک بہت خطیر رقم انہوں نے پیش کی۔اس کی زیبائش اور آرائش کا کام بھی کیا۔اسی طرح اپنے آبائی محلہ دار الرحمت غربی ربوہ کی مسجد کے لئے بھی بڑی رقم دی۔طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے لئے بھی عطیات کی فراہمی میں پیش پیش رہتے تھے۔دعوت الی اللہ کا جنون کی حد تک ان کو شوق تھا اور دینی مطالعہ بھی اللہ کے فضل سے کافی تھا۔یوٹیوب پر غیر احمدیوں اور معترضوں کے اعتراضوں کے مؤثر جواب دینے میں مستعد تھے۔ان کے لواحقین میں اہلیہ محترمہ وجیہہ مہدی اور تین بیٹے عزیزم عبد الله علی عمر پندرہ سال، باشم علی عمر سات سال اور عزیزم اشعر علی عمر تین سال ہیں۔ان کا یہ چھوٹا بچہ اس وقت ساتھ ہی تھا جب ان کو گولیاں ماری گئیں۔ان کی شاعری کی بات کی تھی تو وہ نمونہ میں بتا دوں۔28 / مارچ 2014ء کوانہوں نے جو اپنی آخری نظم کہی اس کے دو تین شعر یہ ہیں۔موت کے روبرو کریں گے ہم زندگی کے حصول کی باتیں نہ مٹا پائے گا یزید کوئی حق ہیں ابن بتول کی باتیں سب فنا ہوگا پر رہیں گی تمام باقی اللہ رسول کی باتیں پھر ایک ان کا پرانا شعر پہلے کا بھی ہے کہ