خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد 12 333 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء اللہ تیری راہ میں یہی آرزو ہے اپنی اے کاش کام آئے خون جگر ہمارا پھرا اپنی شاعری میں نور استخلاف کے نام سے ایک نظم ہے۔اس میں لکھتے ہیں کہ رحمت حق نے پلایا ہے یوں جام زندگی کہ بندھا اپنا خلافت سے نظام زندگی رشک ہے شمس و قمر کونور استخلاف پر ابلیس کے چیلوں پہ ہے تاریک شام زندگی بادی علی صاحب جو ہمارے مبلغ سلسلہ ہیں یہاں بھی بڑا لمبا عرصہ رہے ہیں ، ڈاکٹر صاحب ان کے چھوٹے بھائی تھے اور جس طرح ہادی علی صاحب کیلیگرافی کرتے ہیں ڈاکٹر صاحب کو بھی اسی طرح کیلیگرافی کا بڑا شوق تھا، لکھا کرتے تھے۔بادی علی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی بہت ہی غیر معمولی انسان تھے۔ان کی جدائی سارے خاندان کے لئے گویا ایک بہت بڑا صدمہ ہے مگر محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا خاندان اللہ تعالیٰ کی رضا پر صدق دل سے راضی اور صابر اور شاکر ہے۔مہدی علی شہید کی ای میلز پر اس طرح کے فقرے لکھے ہوتے تھے کہ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة: 84)۔ان کی ہمشیرہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی بہت پیاری مدبرانہ اور بزرگ طبیعت کے مالک تھے۔فضولیات سے ہمیشہ بچتے۔نہایت شوق اور باقاعدگی سے نماز ادا کرتے۔بچپن سے ہی ذیلی تنظیم کے فعال رکن تھے۔جب طفل تھے تو صبح نماز فجر سے پہلے لوگوں کو جگانے کے لئے صل علی کیا کرتے تھے۔بچپن سے ہی مطالعہ کا شوق تھا اور جماعتی کتب کا مطالعہ بہت کم سنی سے شروع کر دیا تھا۔اکثر بزرگ جو آپ کے محلے میں رہتے تھے آپ ان سے استفادہ کیا کرتے تھے، اُن کے پاس جایا کرتے تھے۔ان میں مولا نا عبد اللطیف بہاولپوری صاحب، اسی طرح صوفی بشارت الرحمن صاحب، مولانا ابوالعطاء صاحب وغیرہ شامل ہیں۔ان کو ربوہ سے ایک خاص محبت تھی جو ساری زندگی آپ کے دل میں رہی یہاں تک کہ اپنی جان بھی اسی سرزمین ربوہ میں اپنے خدا کے حضور پیش کی۔والدین کی خواہش پر ڈاکٹر بنے اور بہت پائے کے ڈاکٹر بنے اور کئی اعزازات حاصل کئے۔یہ معمولی ڈاکٹر بھی نہیں تھے۔طبیعت میں بہت ٹھہراؤ تھا۔کبھی وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ہمیشہ علم کی جستجو رہی۔بچوں کی بھی بہت اعلیٰ تربیت کی۔مصروف الاوقات ہونے کے باوجود اپنی بیوی بچوں کے لئے وقت نکالتے۔