خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 331

خطبات مسرور جلد 12 331 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء ڈاکٹر صاحب شہید کے خاندان کا تعلق گوکھو وال ضلع فیصل آباد سے ہے۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم چوہدری فرزند علی صاحب کے ذریعہ سے ہوا تھا جنہوں نے اوائل جوانی میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی تھی۔چوہدری صاحب کی بیعت کے بعد اُن کے بھائی مکرم چوہدری اللہ دتہ صاحب نے بیعت کر لی۔پھر یہ خاندان ربوہ شفٹ ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب شہید کے نانا مکرم ماسٹر ضیاء الدین صاحب شہیدر بوہ کے مکینوں میں پہلے شہید تھے جو 1974ء میں سرگودھا سٹیشن پر فائرنگ سے شہید ہوئے۔اس وقت ماسٹر ضیاء الدین صاحب محلہ دار البرکات کے صدر اور تعلیم الاسلام سکول میں استاد بھی تھے۔ڈاکٹر صاحب شہید 23 ستمبر 1963ء کور بوہ میں پیدا ہوئے۔ڈاکٹر صاحب کی پیدائش کے روز حضرت مرزا بشیر احمد صاحب قمر الانبیاء کا وصال ہوا۔اسی مناسبت سے ڈاکٹر صاحب کے والد نے ان کے نام کے ساتھ ”قمر“ کا لقب لگا دیا۔پھر ڈاکٹر صاحب کے نانا شہید جو تھے انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کے نام کا حصہ بشیر الدین بھی ساتھ شامل کر دیا۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب شہید کا پورا نام ”مہدی علی بشیر الدین قمر ہو گیا۔اور یہی نام ہر جگہ لکھا جاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب شہید نے ابتدائی تعلیم ربوہ میں ہی تعلیم الاسلام سکول اور کالج میں لی۔نہایت ذہین اور ہونہار طلباء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔پھر پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں میڈیکل کی تعلیم شروع کی۔وہاں پڑھائی کے دوران احمدیت کی وجہ سے طلباء نے کافی مخالفت کی۔کتابیں اور سامان وغیرہ جلا دیا جس کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لئے واپس ربوہ آ گئے۔پھر حالات بہتر ہوئے تو دوبارہ جاکر تعلیم شروع کی۔ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا۔پھر 1989 ء سے جولائی 91 ء تک دو سال فضل عمر ہسپتال ربوہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔بعض ازاں اپنی والدہ کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئے۔کینیڈا میں میڈیکل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ہاؤس جاب کیا۔پھر بروک لین (Brooklyn) یو نیورسٹی نیو یارک چلے گئے۔وہاں کارڈیالوجی میں سپیشیلا ئز یشن کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد کولمبس او با یو امریکہ میں آپ نے جاب شروع کیا۔وہیں پھر مستقل رہائش اختیار کر لی اور طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بعد جب میں نے ڈاکٹروں کو تحریک کی تو یہ بھی وقف عارضی کے لئے آتے تھے۔اس سے پہلے بھی دو دفعہ آچکے تھے۔اب تیسری دفعہ تشریف لائے تھے۔جماعتی طور پر مختلف سطح پر ان کو کام کرنے کی توفیق ملی۔بڑے نرم مزاج، نرم خو اور نرم رو شخصیت کے مالک تھے۔ہر کسی کے ساتھ ہمدرد اور دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا یا تنگی ترشی نہیں کی۔ڈاکٹر صاحب کی