خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد 12 317 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء بنی۔(انہوں نے ) یہ سب کچھ اسلام کی خاطر ، ایک نیک مقصد کی خاطر اس امید پر برداشت کیا کہ ان قربانیوں کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مدد کے وعدے ہیں جو پورے ہونے ہیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو کس قدر تکالیف پہنچیں۔متواتر تیرہ سال تو مکہ میں ہی آپ پر مظالم ہوئے۔تیروں ، سونٹوں ، پتھروں غرض کہ کون سی ایسی چیز تھی جس سے آپ پر حملہ نہ کیا گیا ہو اور آپ کو اذیت دینے کی کوشش نہ کی گئی ہو لیکن آپ نے نہ صرف جوانمردی سے اس کا مقابلہ کیا۔اپنے پیاروں ، عزیزوں اور صحابہ کی جان کی قربانیوں کو برداشت کیا بلکہ جب ان ظلموں کی وجہ سے آپ سے بددعا کی درخواست کی جاتی تو آپ نے ہدایت کی دعا ہی مانگی۔جب خود آپ کی ذات پر پتھروں سے حملہ کر کے آپ کو لہو لہان کر دیا گیا، جس کو خود آپ نے اپنی زندگی کا سخت ترین دن فرمایا ہے۔اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تباہ کرنے کے لئے آپ کی مرضی پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ نہیں پہاڑوں کو ان پر نہیں گرانا شاید ان لوگوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہو جا ئیں جو حق کو قبول کر لیں بلکہ امید ہے کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حق کو قبول کر کے اپنی دنیا و آخرت کو سنوار نے والے بن جائیں۔پھر ہجرت کے بعد جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دشمنوں کی طرف سے بار بار حملہ ہوتا تھا۔پس جہاں ظلموں کی ایک لمبی داستان ہے وہاں صبر برداشت اور رحم کی بھی بے مثل داستانیں ہیں جو آپ نے رقم کی ہیں۔یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو برداشت کرنا ہی تھا کہ آپ نے ہر معاملے میں دنیا میں ایک مثال قائم کرنی تھی۔آپ کے صحابہ نے بھی قربانیوں کے نمونے دکھائے ہیں۔اس لئے کہ خدائی وعدوں اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر ان کی نظر تھی اور کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل پر آنا تھا اور آپ آئے۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل ہیں۔اس لئے آپ نے بھی اپنے ماننے والوں کو یہی فرمایا کہ میرے ساتھ اور میری جماعت کے ساتھ تو یہ ظلم و زیادتی ہونی ہے تکالیف کے دور آنے ہیں۔آپ نے واضح فرمایا کہ میرا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے کانٹوں پر چلنا ہو گا۔آپ نے کسی سے کوئی دھوکہ نہیں کیا۔ہر شخص جو احمدیت میں داخل ہوتا ہے یہ مجھ کر ہوتا ہے کہ تکالیف برداشت کرنی پڑیں گی۔میں بعض دفعہ نو مبائعین سے یہ دیکھنے کے لئے یہ سوال کر دیتا ہوں کہ ان کو کچھ اندازہ بھی ہے کہ احمدیت کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔گزشتہ دنوں یہاں یو کے (UK) کے جو نومبائعین تھے، ان کے ساتھ ایک نشست تھی تو ایک دوست سے میں نے یہی سوال پوچھا۔کیونکہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے تو ان کا یہی جواب تھا کہ ہم نے سوچ سمجھ کر بیعت کی ہے اور ہر سخی جھیلنے کے لئے