خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 316

خطبات مسرور جلد 12 316 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء ڈبل سٹینڈرڈ نہ بناؤ تو اکثر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس بات کی ہمارے اندر کمی ہے اور یہی حقیقت ہے۔بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ کھلے طور پر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارے مقاصد ہیں، جن کے حصول کے لئے ہم نے ایجنڈے بنائے ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم دنیا کے سامنے باتیں تو انصاف کی کرتے ہیں لیکن مقاصد ہمارے اپنے ہیں۔ان کو ہم نے حاصل کرنا ہے۔تو یہ تو ان کا حال ہے جن کی طرف ہم کہتے ہیں کہ ہم اپنی نظریں رکھیں یا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نظر کریں۔دو عملی کرنے والوں پر تو انحصار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ان میں کوئی طاقت ہے کہ یہ مشکلات دور کر سکیں۔ایک اخبار ہے جو ایک ایسا بیان بھی شائع نہیں کرنا چاہتا جس سے ملک کی محبت کا اظہار ہورہا ہے۔کوئی نزاعی اور جھگڑے والا معاملہ نہیں ہے جن پر ان کو تحفظات ہوں۔اس پر ایسے لوگوں کو جو اس قسم کے مشورے دیتے ہیں، سوچنا چاہئے کہ کیسے ہم ان لوگوں کی طرف دیکھیں اور ان پر تکیہ کریں۔اگر ہر احمدی خدا پر انحصار کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو جہاں جہاں بھی احمدیوں پر تنگیاں وارد کی جارہی ہیں وہ انشاء اللہ تعالیٰ دعاؤں سے ہی ہوا میں اڑ جائیں گی۔مگر شرط ان دعاؤں کا حق ادا کرنا ہے۔ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جماعت پر پاکستان یا بعض دوسرے ممالک میں غیروں کی طرف سے جو سختیاں ہو رہی ہیں یا حکومتوں کی طرف سے یہ ظلم جو قانون کی آڑ میں یا کسی بھی طرح سے کئے جارہے ہیں یہ آج کی پیداوار نہیں۔یہ کوئی گزشتہ دو تین دہائیوں کا معاملہ نہیں ہے۔یہ تو اس وقت سے ہیں جب سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تھا اور ایک جماعت قائم کی تھی۔آپ کو اور جماعت کو ابتدا سے ہی ان ظلموں اور سختیوں سے گزرنا پڑا تھا۔بلکہ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ جب یہ خیال پیدا ہوا کہ آپ کو اپنی آبائی بستی قادیان سے ہجرت کرنی پڑے گی جس کا مالک مدتوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان تھا۔آپ وہاں بھی محفوظ نہیں تھے۔بلکہ ہم اس سے بھی اوپر جائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا تمام دور ہی دشمنوں کی طرف سے ظلم پر ظلم کے اظہار دیکھتے ہوئے گزرا ہے۔آپ کی چہیتی بیوی جو لاکھوں روپے کی مالک تھی اور جن کے بیسیوں غلام تھے ، جو مکہ کی امیر ترین عورتوں میں شمار ہوتی تھیں، انہیں اسلام قبول کرنے کے بعد کیسی شدتوں سے گزرنا پڑا۔بڑھاپے میں گھر سے بے گھر ہوئیں اور نہ صرف یہ بلکہ بڑا لمبا عرصہ نہایت کسمپرسی کی حالت میں ایک گھائی میں رہنا پڑا جہاں خوراک کی بھی تنگی ، پانی کی بھی تنگی ، رہائش کی بھی تنگی تھی اور یہی تنگی کے حالات اور سختی کی جو حالت تھی ان کی وفات کی وجہ