خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 318

خطبات مسرور جلد 12 318 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء تیار ہیں۔بعض عورتوں نے بھی اپنے گھر بار چھوڑ دیئے لیکن ایمان کو نہیں چھوڑا۔تو یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا ادراک حاصل کیا۔یہ ادراک حاصل کیا کہ زندگی اور موت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور خوش قسمت ہیں وہ جو اللہ تعالیٰ کی خاطر استقامت دکھانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہان کی جنتوں کا وارث بناتا ہے اور یہ صرف منہ کی باتیں نہیں ہیں۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اب یہ واقعات کسی نہ کسی شکل میں نظر آتے رہتے ہیں۔جب یہ قربانیوں کے نمونے دکھائے جاتے ہیں۔اور یہ ایسی ایسی قربانیوں کے نمونے ہیں کہ بعض دفعہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔یہ سب اس لئے ہے کہ جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں ابتدا سے ہی یہ واضح کر دیا کہ یہ ہوگا۔اور یہ بھی فرما دیا کہ سب کچھ دیکھنے اور اپنے پر بیتنے کے باوجود تم اپنے ایمان پر حرف نہ آنے دینا اور اسی بات کو ہمیشہ یادرکھنا کہ اس استقامت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دونوں جہان میں انعامات مقرر کئے ہوئے ہیں۔اس کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی کئی جگہ فرمایا ہے۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں بھی یہی مضمون ہے۔اس کا ترجمہ بھی آپ نے سن لیا۔پس زندگی اور موت تو ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ واضح فرما دیا کہ زندگی اور موت خدا تعالیٰ کے اذن سے ہے۔دشمن زیادہ سے زیادہ ہمیں موت کا ہی خوف دلا سکتا ہے تو اس کی پرواہ نہیں۔اگر یہ خدا تعالیٰ کے راستے میں آئے تو انعامات کی بشارتیں ہیں۔ہم اسلام کی تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید جب بستر مرگ پر تھے تو ایک دوست جو اُن کی عیادت کے لئے گئے، ان کو دیکھ کر وہ شدت سے رونے لگے۔یہ دوست سمجھے کہ شاید موت کا ڈر ہے۔انہوں نے کہا کہ خالد ! آپ تو دشمنوں کے نرغے میں کئی دفعہ آئے اور ایسی شجاعت کے مظاہرے کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اب اس وقت کیوں موت سے ڈر رہے ہیں؟ حضرت خالد نے کہا کہ میرے اوپر سے کپڑا اٹھاؤ۔دیکھا تو جسم کے اوپر والے حصے میں انچ انچ پر زخم کے نشانات تھے۔پھر انہوں نے کہا کہ اب میری ٹانگوں سے کپڑا اٹھاؤ۔وہاں بھی انچ انچ پر زخموں کے نشانات تھے۔پھر حضرت خالد بن ولید نے کہا کہ میں موت کے ڈر سے نہیں رور ہا۔اس فکر میں رورہا ہوں کہ میں نے ہمیشہ شہادت کی تمنا کی ہے اور یہ زخموں کے نشان اس بات کے گواہ ہیں لیکن مجھے وہ مقام و مرتبہ نہیں ملا اور اب میں بستر پر جان دے رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ شہادت کی موت نہ آنا کہیں میرے شامت اعمال کا نتیجہ تو نہیں ہے۔اور یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شہادت نہیں دی تو اس میں خدا تعالیٰ کی کوئی ناراضگی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کی روح کو یا قربان