خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد 12 295 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء فرمایا اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔قُل يَأْيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الا اعراف: 159)‘ ( کہ کہہ دے کہ اے لوگو ! میں تمہارے لئے تم سب کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں ) اور پھر فرمایا وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (الانبیاء : 108 )۔(اور ہم نے تجھے دنیا کی طرف صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔فرمایا کہ " کتاب دی تو ایسی کامل اور ایسی محکم اور یقینی کہ لا رَيْبَ فِيهِ (البقرة : 3 ) اور فِيهَا كُتُبْ قَيَّمَةٌ (البيئة : 4)‘ (جس میں قائم رہنے والے احکام ہیں۔باقی کتابیں تو صرف قصے ہیں، قصے رہ گئے ہیں۔ایسی صداقتیں جو دائمی ہیں وہ صرف قرآن کریم میں نظر آتی ہیں۔اور ایت مُحكَمَت قَوْلُ فَضْلُ مِيزَانٌ مُهَيْمِنٌ پھر فرماتے ہیں کہ غرض ہر طرح سے کامل اور مکمل دین مسلمانوں کا ہے جس کے لئے اليوم أكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : 4 ) کی مہر لگ چکی ہے۔( کہ آج تمہارے لئے تمہارا دین مکمل ہو گیا۔اپنی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا۔یہ مہراب لگ چکی ہے۔پس اسلام ہی ہے جو آخری اور کامل دین ہے جو تمام ضرورتوں کو پورا کر نے والا ہے۔) پھر فرمایا: پھر کس قدر افسوس ہے مسلمانوں پر کہ وہ ایسا کامل دین جو رضاء الہی کا موجب اور باعث ہے رکھ کر بھی بے نصیب ہیں (ایسے دین کی طرف منسوب ہو کر بھی بے نصیب ہیں ) ” اور اس دین کے برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں لیتے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو ایک سلسلہ ان برکات کو زندہ کرنے کے لئے قائم کیا تو اکثر انکار کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور لست مُرسَلًا اور لَسْتَ مُؤْمِنَّا کی آوازیں بلند کرنے لگے۔( مسیح موعود کو بھیجا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ہی فیض ہے تو بجائے اس کے کہ قبول کرتے انکار کرنا شروع کر دیا۔یہ نعرے لگانے شروع کر دیئے کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہیں آئے۔یہ آواز میں بلند کرنی شروع کر دیں کہ تم مومن نہیں ہو۔) فرمایا کہ یا درکھو خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار محض ان برکات کو جذب نہیں کر سکتا جو اس اقرار اور اُس کے دوسرے لوازمات یعنی اعمال صالحہ سے پیدا ہوتے ہیں۔صرف توحید کا اقرار کر لینا برکات کو جذب نہیں کرے گا۔اس اقرار کے ساتھ جو لوازمات ہیں یعنی اعمال صالحہ کا بجالانا، وہ بھی کیونکہ ضروری ہیں اس لئے جب تک وہ پیدا نہیں ہوتے ( برکتیں نہیں ملیں گی )۔توحید کی برکتیں تبھی ملیں گی۔