خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 296

خطبات مسرور جلد 12 296 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہو کر آپ کے اسوہ حسنہ کو دیکھتے ہوئے عمل کرتے ہوئے اعمال صالحہ بجالا ؤ گے۔فرمایا: ” یہ سچ ہے کہ توحید اعلیٰ درجہ کی بجز ہے جو ایک سچے مسلمان اور ہر خدا ترس انسان کو اختیار کرنی چاہئے مگر تو حید کی تکمیل کے لئے ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ محبت الہی ہے یعنی خدا سے محبت کرنا۔قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہ لا شریک ہے ایسا ہی محبت کی رُو سے بھی اس کو وحدہ لاشریک یقین کیا جاوے اور گل انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا اصل منشاء ہمیشہ یہی رہا ہے۔چنانچہ لا إلهَ إِلَّا اللہ جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی تو حید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے (لا إلهَ إِلَّا الله توحید کی تعلیم بھی دیتا ہے اور توحید کی تکمیل محبت، اس سے توحید سے محبت کرنے کے کمال کو حاصل کرنے کی ہدایت بھی کرتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ ایک ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اس کی مانند ساری تو رات اور انجیل میں نہیں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب نے کامل تعلیم دی ہے۔اللہ کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جاوے۔گو یا اسلام کی یہ اصل محبت کے مفہوم کو پورے اور کامل طور پر ادا کرتی ہے۔یا د رکھو کہ جو تو حید ہدوں محبت کے ہو وہ ناقص اور ادھوری ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 186 - 187) اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا اللہ تعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو کر ملتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو۔اعلان کرایا کہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران: 32)۔انہوں نے فرمایا کہ میری پیروی کرو تو پھر اللہ تعالیٰ کی محبت بھی ملے گی۔توحید کی حقیقت اور ایک مؤمن کا کیا معیار ہونا چاہئے ، اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ حکام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ان سے انعام یا خطاب پاتے ہیں۔اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے۔وہ اُن کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو تو حید کا استیصال کرتا ہے ( توحید کے معیار کو ختم کر دیتا ہے۔) اور انسان کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا کر ڈور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مال کار توحید پر جا ٹھہرے۔( آخر کار جو نتیجہ ہے، جو سارا