خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد 12 284 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء والے خدا کو چھوڑ کر اور اس زمانے کے فرستادے کو چھوڑ کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آیا ہم کہیں اور جا کر یہ معیار حاصل کر سکتے ہیں؟ کبھی نہیں کر سکتے۔پس ہر ایک کے لئے ہماری جو محبت ہے یا نفرت کسی سے نہیں جو ہے یہ ایک آخری مقصد نہیں ہے بلکہ خدا کی رضا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔اس کو ہمیشہ ہمیں سامنے رکھنا چاہئے اور اسی کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔کچھ عرصہ ہوا مجھے احساس ہوا کہ خدمت انسانیت کے لئے ہیومینٹی فرسٹ کے نام سے جو ہمارا ادارہ ہے اس کے کام کر نیوالوں اور شاید انتظامیہ کو یہ خیال ہو گیا ہے کہ دین سے بالکل اپنے آپ کو علیحدہ کرنا ہے اور اگر علیحدہ کر کے خدمت کریں تو شاید ہماری دنیا میں زیادہ آؤ بھگت ہو گی۔تو میں نے یہاں مرکزی انتظامیہ کو کہا کہ آپ کی اہمیت اس لئے ہے کہ دین سے جڑے ہوئے ہیں۔جماعت کا کہیں نہ کہیں نام آتا ہے۔اگر کہیں حسب ضرورت جماعت کا نام بھی استعمال کرنا پڑے تو لینے میں کوئی حرج نہیں۔یہ پیش نظر رہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے خدمت انسانیت کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کرو اس لئے ہم نے خدمت انسانیت کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اپنی عبادتوں کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے۔بغیر اس کے خدمت انسانیت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔انہیں تو یہ بات سمجھ آگئی لیکن باقی ممالک میں جو ہیومینٹی فرسٹ کی شاخیں ہیں ان کے کارکنوں اور انتظامیہ کو جن میں الا ماشاء اللہ تقریباً سارے احمدی ہی ہیں، یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے کام میں برکت اسی وقت پڑے گی جب خدا تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کریں گے اور اپنے کام کو اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے والا بنانے کی کوشش کریں گے اور اپنے کاموں کو دعاؤں سے شروع کریں گے۔اس کے بغیر ہمارے کسی کام میں برکت نہیں پڑ سکتی، چاہے کوئی اپنی عقل سے منصوبہ بندی کرتار ہے۔بہر حال یہ بات کہنی بھی ضروری تھی اور آج میں نے اسی ضمن میں بات کی ہے کیونکہ میں سوچ رہا تھا کہ کبھی ہیومینٹی فرسٹ کی انتظامیہ کو توجہ دلانے کے لئے کہوں گا ، اس کا ذکر کروں گا تو چاہے ضمناً کہہ لیں یا اس تعلق میں میں کہہ لیں۔بہر حال اس کا ذکر کرنا ضروری ہے اور اسی لئے میں نے یہ بات بیان کی ہے۔اب میں محبت سب کے لئے“ کے نعرے کی بات جو میں کر رہا تھا اس کی طرف آتا ہوں۔اور یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بے شک خدمت خلق اور ہمدردی خلق اور محبت پھیلانے اور دشمنیاں ختم کرنے کی نیکی ایک بہت بڑی نیکی ہے لیکن صرف یہی نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نعرہ ہماری زندگی کا مقصد ہے۔اگر ہمیں یہ خیال آ جائے کہ اگر ہم نے یہ کر لیا تو سب کچھ پالیا۔لیکن جیسا کہ پہلے بھی میں بتا آیا ہوں کہ یہ نعرہ اس