خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 283

خطبات مسرور جلد 12 283 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء یہاں پہلے جوفر مایا کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو۔اس سے یہ خیال آ سکتا ہے کہ جب نفرت کسی سے نہیں تو دشمنی کیسی۔اس کا جواب بھی فرما دیا کہ جو مذہب کی وجہ سے دشمن ہیں ، جو خود دشمنی میں بڑھے ہوئے ہیں تم ان کو ذاتی دشمن نہ سمجھو۔تمہارے دل میں دشمنی ہے یا نہیں۔جو بھی تمہارے سے دشمنی کرنے والے ہیں ان کی اصلاح کی کوشش تو کرو لیکن ذاتی دشمن بنا کر یا ذاتی دشمنی کا دل میں خیال لاکر پھر کینه توزی کی عادت نہ ڈالو۔نفرتوں کو دور کرنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا: نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ ایک زبر دست ذریعہ ہے۔“ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 102) فرمایا: اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کرو۔بھوکوں کو کھلا ؤ۔غلاموں کو آزاد کرو۔قرضہ داروں کے قرض دو۔زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو“ پھر ایک موقع پر فرمایا کہ ( نور القرآن نمبر 2 ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 434) میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔مگر میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہرگز ہرگز اپنی ہمدردی کے دائرہ کو محدود نہ کرو“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 282-283) پھر فرمایا: ” تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہوجیسا۔۔۔۔۔۔کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔دکھاوے کے لئے نیکی نہیں کر سکتا۔) کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 30) پس دوسروں سے ہمدردی اور محبت کے یہ معیار ہیں اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے، اس کے رسول کا حکم ہے۔قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔پس ہمدردی خلق کے بارے میں اسلام کی یہ کیسی خوبصورت تعلیم ہے۔کیا اس تعلیم کے دینے