خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 285
خطبات مسرور جلد 12 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء مقصد کے حصول کا ایک حصہ ہے۔اس منزل کی طرف بڑھنے کا ایک قدم ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور آپ کی غلامی میں اس زمانے میں اس کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اور وہ مقصد ہے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح ادراک پیدا کرنا، خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے تمام احکامات پر چلنے کی کوشش کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنا مطمح نظر اور مقصد بنانا اور اس کے حصول کے لئے مقدور بھر کوشش کرنا کیونکہ یہی چیز ہے جس سے ہر قسم کے اعلیٰ اخلاق اور نیکیوں کے حصول کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی علماء کی ایک بحث مضامین کی صورت میں چلی جو الفضل میں شائع ہوتے رہے یا بعض بزرگوں نے اس بارے میں اپنا اپنا نقطہ پیش کیا کہ جماعت کا ماٹو یا طمح نظر کیا ہونا چاہئے؟ اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جماعت کو جو ماٹو دیا یا جس طرف توجہ دلائی وہ ایسا ہے جس سے دین بھی مضبوط ہوتا ہے، ایمان بھی مضبوط ہوتا ہے، حقوق اللہ کی ادا ئیگی بھی ہوتی ہے اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔دو بزرگوں میں سے ایک نے کہا کہ ہماری جماعت کا لمح نظر فَاسْتَبِقُوا الخيرات (البقرة: 149) ہونا چاہئے۔دوسرے نے کہا کہ ہما را مانو یا مطمح نظر ہمیں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا ہو نا چاہئے۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ کوئی نہ کوئی بھی نظر ضرور ہونا چاہئے۔دنیا میں جتنی تنظیمیں ہیں اور انجمنیں ہیں جب قائم ہوتی ہیں تو اپنا اپنا کوئی نہ کوئی شطح نظر رکھتی ہیں اور اگر سنجیدہ اور امانت کا حق ادا کرنے والی ہیں تو اس کے حصول کے لئے سنجیدگی سے کوشش بھی کرتی ہیں تا کہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کر سکیں۔دنیا میں اخلاقی ترقی کوبھی صلح نظر بنانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے تعلیمی ترقی کو بھی مطمح نظر بنانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔اگر کسی جگہ عوام کے یا کسی کے حقوق غصب ہورہے ہیں تو سیاسی تنظیمیں آزادی کو اپنا اٹو بنا لیتی ہیں، اس کے لئے کوشش کرتی ہیں اور نعرے لگاتی ہیں۔اگر کسی جگہ کوئی اور صورت ہے تو اس کو اپنا صح نظر بنایا جاتا ہے۔بہر حال مح نظر کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس بات کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اپنی جماعت کے سامنے بھی ہر وقت اسے موجود رکھنا ہے، دنیا میں بھی قائم کرنا ہے اور اپنے سامنے بھی موجود رکھتا ہے۔اس دنیا میں ہزاروں قسم کی نیکیاں ہیں اگر کسی ایک نیکی کو چن لیا جائے تو بظاہر ایک اچھی بات ہے، سمح نظر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ باقی قسم کی نیکیوں کی ضرورت نہیں رہتی۔بلکہ ضرورت اور سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے ان نیکیوں میں سے کسی ایک نیکی کو شیح نظر بنایا جاتا ہے۔تمط