خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 273
خطبات مسرور جلد 12 273 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةٌ (الفجر : 29-28)۔۔۔۔۔( یعنی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔اسے پسند کرنے والا بھی ہے اور اس کا پسندیدہ بھی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ " یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے اور پھر یہ اطمینان خدا کے ساتھ پایا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 110 - 111) آپ نے اس کی یہ وضاحت بھی فرمائی کہ بعض لوگ بظا ہر حکومت سے کچھ حاصل کر کے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔بعض لوگوں کے اطمینان کا ذریعہ ان کی اولا د اور رشتے دار اور اردگرد کے لوگ ہوتے ہیں مگر یہ سب کچھ جو ہے یہ سچا اطمینان مہیا نہیں کر سکتا بلکہ پیاس کے مریض کی طرح جوں جوں ان لوگوں سے یہ بظاہر اطمینان حاصل کر رہے ہوتے ہیں پیاس بڑھتی چلی جاتی ہے، تسلی نہیں ہوتی۔آخر انسان کو یہ بیماری ہلاک کر دیتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس بندے نے خدا تعالیٰ کا قرب پا کر یہ اطمینان حاصل کیا ہے اس کے پاس بے انتہا دولت بھی ہو تو وہ اس کی خدا تعالیٰ کے مقابلے میں ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کرتا۔دنیا اس کا مقصود نہیں ہوتی۔وہ اصل راحت کی تلاش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ نے سمجھایا کہ تمام راحت انسان کی خدا تعالیٰ کے قرب اور محبت میں ہے اور جب اس سے علاقہ تو ڑ کر دنیا کی طرف جھکے تو یہ جہنمی زندگی ہے۔اور اس جہنمی زندگی پر آخر کار ہر یک شخص اطلاع پالیتا ہے اور اگر چہ اس وقت اطلاع پاوے جبکہ یکد فعہ مال ومتاع اور دنیا کے تعلقات کو چھوڑ کر مرنے لگے۔“ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 158 ) بہر حال کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی وقت یہ اطلاع مل جاتی ہے کہ دنیا جہنمی ہے۔چاہے مرتے وقت ہی انسان کو اس کی اطلاع ہو۔پھر فرمایا کہ اعلیٰ درجے کی خوشی خدا میں ملتی ہے۔جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے۔جنت پوشیدہ کو کہتے ہیں ( یعنی چھپی ہوئی چیز کو جنت کہتے ہیں اور جنت کو جنت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نعمتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔اصل جنت خدا ہے جس کی طرف تر در منسوب ہی نہیں ہوتا۔اس لئے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ أَكْبَرُ ( التوبة : 72) ہی رکھا ہے۔انسان انسان کی حیثیت سے