خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 272
خطبات مسرور جلد 12 272 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء جیسا کہ اُس نے لیکھرام پر ظاہر کیا اور اس کی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ وہ خوب سمجھتا تھا کہ خدا نے اُس کی موت سے اسلام کی سچائی پر مہر لگا دی۔غرض اس طرح پر خدا اپنے زندہ تصرفات سے قرآن شریف کی پیروی کرنے والے کو کھینچتا کھینچتا قرب کے بلند مینار تک پہنچادیتا ہے۔“ 66۔۔۔۔۔۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحه 309) پھر آپ فرماتے ہیں : ” یہ بات بھی خوب یاد رکھنی چاہئے کہ ہر بات میں منافع ہوتا ہے۔دُنیا میں دیکھ لو۔اعلیٰ درجہ کی نباتات سے لے کر کیڑوں اور چوہوں تک بھی کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کے لئے منفعت اور فائدہ سے خالی ہو۔یہ تمام اشیاء خواوہ ارضی ہیں یا سماوی اللہ تعالیٰ کی صفات کے اظلال اور آثار ہیں اور جب صفات میں نفع ہی نفع ہے، تو بتلاؤ کہ ذات میں کس قدر نفع اور سود ہوگا۔اس مقام پر یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ جیسے ان اشیاء سے کسی وقت نقصان اٹھاتے ہیں تو اپنی غلطی اور نامنہی کی وجہ سے۔اس لئے نہیں کہ نفس الامر میں ان اشیاء میں مضرت ہی ہے۔( یعنی ان چیزوں کے اندرسوائے نقصان کے اور کچھ ہے ہی نہیں۔نہیں بلکہ اپنی غلطی اور خطا کاری سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔اگر کسی چیز میں نقصان پہنچے۔فرمایا: ” اس طرح پر ہم اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے تکلیف اور مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ تو ہمہ رحم اور کرم ہے۔دُنیا میں تکلیف اٹھانے اور رنج پانے کا یہی راز ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی سوء فہم اور قصور علم کی وجہ سے مبتلائے مصائب ہوتے ہیں۔( صحیح طرح ہم کسی بات کو سمجھ نہیں سکتے یا ہمیں علم نہیں ہوتا اس وجہ سے مصیبتوں اور مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔فرمایا : پس اس صفاتی آنکھ کے ہی روزن سے ہم اللہ تعالیٰ کو رحیم اور کریم اور حد سے زیادہ قیاس سے باہر نافع ہستی پاتے ہیں اور ان منافع سے زیادہ بہرہ ور وہی ہوتا ہے جو اس کے زیادہ قریب اور نزدیک ہو جاتا ہے اور یہ درجہ اُن لوگوں کو ہی ملتا ہے جو شکتی کہلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاتے ہیں۔جوں جوں متقی خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے ایک نور ہدایت اسے ملتا ہے جو اس کی معلومات اور عقل میں ایک خاص قسم کی روشنی پیدا کرتا ہے اور جوں جوں دور ہوتا جاتا ہے ایک تباہ کرنے والی تاریکی اس کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتی ہے۔یہاں تک کہ وہ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْنٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرة: 19) کا مصداق ہو کر ذلت اور تباہی کا مورڈ بن جاتا ہے ،مگر اس کے بالمقابل نور اور روشنی سے بہرہ ور انسان اعلیٰ درجہ کی راحت اور عزت پاتا ہے؛ چنانچہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔یایھا