خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد 12 267 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء جاتا ہے۔اخلاق کس حد تک دکھائے جارہے ہیں یہ پتا لگ جاتا ہے۔اور یہ نہ بھی ہو تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مثال دی ہے کہ ایک دفعہ بڑے پڑھے لکھوں کی ایک جگہ ایک مجلس میں جو ظاہری طور پر سوسائٹی کے بڑے سرکردہ بنے پھرتے تھے، ان کی مجلس میں فیصلہ ہوا کہ آج بے تکلف مجلس ہونی چاہئے اور آپ کہتے ہیں اس بے تکلفی کا معیار یہ تھا کہ جو کچھ بیہودگیاں ہو سکتی تھیں وہ کی گئیں۔تو وہاں ان سب کی قلعی کھل جاتی ہے۔فرمایا۔اور تکلف اور تصنع اخلاق فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دنیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں۔( یہ تکلف اور تصنع اور اخلاق کیوں دکھائے جاتے ہیں؟ اس لئے کہ ان کی جو دنیا ہے، جو دنیاوی باتیں ہیں، معاشرہ ہے اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ چیزیں دکھانی ضروری ہیں۔اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔اس لئے دکھایا جاتا ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے۔) فرمایا اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے۔جوان کے دلوں میں گندگی اور آلائشیں شامل ہوئی ہوئی ہیں اگر اس کی پیروی کریں، اس کے پیچھے چلیں تو جو کچھ ان کے دنیاوی کام ہیں وہ پھر متاثر ہوں گے، ان میں خلل پڑے گا۔اس لئے یہ اخلاق دکھانے کا مقصد صرف ذاتی مفاد ہوتا ہے نہ کہ اخلاق کو لاگو کرنا۔اخلاق پر عمل کرنا اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو ، اخلاق اس لئے دکھا نا کہ دوسرے کا فائدہ ہو۔( یہ مقصد نہیں ہوتا ) فرمایا: اور اگر چہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تخم اخلاق کا ان میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبا رہتا ہے اور بغیر آمیزش اغراض نفسانی کے خالصا اللہ ظاہر نہیں ہوتا چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے اور خالصا للہ انہیں میں وہ ختم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالیٰ غیریت کی لوٹ سے بکلی خالی پا کر خود اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے۔۔۔وہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے کرتے ہیں اور جو غیریت کی آلودگی ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کی آلودگی ہے وہ اس سے بالکل پاک ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے اخلاق ان میں بھر دیتا ہے۔اور ان کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں۔پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہو جاتے ہیں جس کی توسط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور ان کو بھو کے اور پیاسے پا کر وہ آب زلال