خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 237
خطبات مسرور جلد 12 237 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء تمام سامان مہیا نہ کر سکے اسے خود ایک خدا کی ضرورت ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔جس نے یہ اعلان کیا ہے کہ میں نے اپنی مخلوق کی زندگی قائم رکھنے کے لئے سامان مہیا کئے ہیں۔وہی ہے جس پر انحصار کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہئے۔پس یہ وجہ ہے اور تفصیل سے صمد کے یہ معنی ہیں۔پھر نسب کی بات کی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لم یلد اس کا کوئی بیٹا نہیں۔وَلَمْ يُولّد اور اس کا کوئی باپ نہیں۔پس نسب نسل سے وہ بالا ہے۔لہذا اس کا کوئی شریک ہو نہیں سکتا۔پھر چوتھی بات اللہ تعالیٰ کے متعلق فرماتا ہے کہ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدد اس کے کاموں میں کوئی اس کی برابری کرنے والا نہیں۔پس جب برابری کرنے والا نہیں تو نہ ہی خدا تعالیٰ جیسے کوئی کام کر سکتا ہے۔نہ ہی کام کے نتائج اور اثرات پیدا کرنا کسی کے بس میں ہے یا ہو سکتا ہے۔یہ عام دنیا دار بھی جو اپنے کاموں کا نتیجہ دیکھ رہا ہوتا ہے اور بڑے فخر سے کہتا ہے کہ میں نے یہ کر دیا وہ کر دیا۔اس کے بھی جو نتائج پیدا ہور ہے ہوتے ہیں یہ نتائج پیدا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے بلکہ قانون قدرت کے تحت انسان کو اس کی محنت کا صلہ مل رہا ہوتا ہے جو محنت وہ کرتا ہے۔وہ رب بھی ہے اور رحمان بھی ہے۔اس کی ربوبیت اور رحمانیت کا فیض انسان کومل رہا ہوتا ہے۔پس کتنا بد قسمت ہے وہ انسان جو بجائے اپنے خدا کے اس احسان کے اس کے قریب ہو، اس کے آگے جھکے، اکثریت ان میں سے دور ہٹتی چلی جاتی ہے۔پھر لیکچر لاہور میں خدا تعالیٰ کی توحید اور سب طاقتوں کا مالک ہونے کے بارے میں آپ نے اسی سورت کو مزید بیان فرمایا کہ: قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص : 2-5)۔یعنی تمہارا خداوہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی از لی اور ابدی۔۔۔۔نہ کسی چیز کے صفات اُس کی صفات کے مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے۔( علم حاصل کرنے والے کے لئے کسی علم سکھانے والے کی ضرورت ہے۔اور پھر محدود ہے۔( جو بھی علم حاصل ہوگا وہ محدود ہوتا ہے مگر اس کا علم “ ( خدا تعالیٰ کا علم ) ” کسی معلم کا محتاج نہیں اور با ایں ہمہ غیر محدود ہے۔۔۔( اور ساتھ ساتھ غیر محدود بھی ہے انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے۔( بغیر ہوا کے سن نہیں سکتے۔۔اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے۔ایک حد تک دیکھ سکتا ہے انسان)