خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 238
خطبات مسرور جلد 12 238 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے۔لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔اس لئے اس کی تو حید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنی ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔“ (لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد 20 صفحه 155-154 ) پھر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی عقلی دلیل دیتے ہوئے آپ قرآن شریف کے عقائد سے ہی استنباط کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یعنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وو پھر بعد اس کے اُس کے وحدہ لا شریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا وو لَوْ كَانَ فِيهِمَا الهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا - ( سورة ) انبیاء کی آیت 23 ہے۔پھر فرمایا:۔۔۔وَمَا كَانَ مَعَهُ مِن إله الخ المومنون کی آیت (92) ہے۔یعنی اگر زمین و آسمان میں بجز اُس ایک ذات جامع صفات کاملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے۔کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحدان میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور ان کے آرام کے لئے دوسروں کا بر باد کر نا روا رکھتا۔پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔“ ( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 519-518 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) پس سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک سے زیادہ کوئی خدا ہو۔پھر خدا تعالیٰ کی بعض صفات جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے، ان کا ذکر فرماتے ہوئے مختصر وضاحت آپ نے فرمائی۔فرمایا کہ جس خدا کی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اس کی اس نے یہ صفات لکھی ہیں۔