خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 236

خطبات مسرور جلد 12 236 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلادیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دویا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں۔آگے بعض مشکل الفاظ آئیں گے میں مختصراً ان کی وضاحت کر دوں گا۔فرمایا کہ جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ آخر يلد ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لم یولد ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔“ ( براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 518، حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) آپ نے اس میں فرمایا کہ شرکت یا شریک ہونا عقل کی رو سے چار قسم پر منحصر ہے یعنی تعداد میں۔ایک تو کسی کی شرکت ہو سکتی ہے، کوئی کسی کا شریک ہو سکتا ہے جب تعداد میں اس کے مطابق ہو۔ایک دو تین چار پانچ ہوں۔دوسرے مرتبہ اور مقام میں۔تیسرے نسب یا خاندان میں۔چوتھے کسی کام کے کرنے کی طاقت میں اور اس کے اثرات قائم کرنے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان چاروں قسم کے شرک سے پاک ہے۔یہاں اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کھول کر بتا دیا کہ وہ احد ہے۔وہ اپنے عدد میں ایک ہے۔دو تین چار نہیں۔نہ اس کے برابر کوئی ہو سکتا ہے۔وہ صمد ہے یعنی وہی ہے جس کی ضرورت ہر وقت مخلوق کو ہے۔جب بھی کسی چیز کی احتیاج ہو، کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسی کی طرف جایا جاتا ہے اور جایا جانا چاہئے۔یا وہی ہے جو اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی طرف جایا جائے۔کوئی اور وجو دضرورت پوری کرنے کے لئے اس کا ہم پلہ نہیں ہے۔اس کے برابر نہیں ہے۔وجہ کیا ہے؟ کوئی وجود برابر کیوں نہیں ہے جو ضرورتیں پوری کر سکے؟ یہاں آپ نے وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس کے علاوہ ہر چیز وجود میں آسکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ ہمیشہ سے ایک ہی ہے اور رہے گا اور پھر ہر چیز کو فنا ہے۔ایک وقت میں ختم ہو جائے گی، ہلاک ہونے والی ہے۔یعنی ہر وجود جو مخلوق ہے اس کے ساتھ پیدائش بھی ہے اور فنا بھی لیکن خدا تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔پس بوجہ پیدا ہونے اور ہلاک ہونے کے باقی مخلوق عارضی ہے۔کچھ وقت کے لئے ہے اور جو عارضی اور کچھ وقت کے لئے ہو وہ اپنی ضروریات کے تمام سامان مہیا نہیں کر سکتا، نہ کسی کو مہیا کرواسکتا ہے۔پس جو