خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 235
خطبات مسرور جلد 12 235 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء آتا ہے۔ذاتی خوبیاں ہیں ان میں نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض خاص آدمیوں کو دی گئی خوبیاں ہیں وہ ان میں نظر آتی ہیں، ظاہری خوبیاں ہیں یا چھپی ہوئی خوبیاں ہیں، ذہنی خوبیاں ہیں یا خارجی ہیں۔انسان کے باہر نظر آ رہی ہوتی ہیں۔کسی چیز کی خوبصورتی جو نظر آرہی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے نور کی وجہ سے ہیں۔فرمایا : '' اسی کے فیض کا عطیہ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحه 191 حاشیہ نمبر 11) دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، جتنی ان کی خوبیاں نظر آتی ہیں، جہاں جہاں خوبصورتی نظر آتی ہے، حسن نظر آتا ہے۔انسان دیکھتا ہے اس کو فائدے پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ہر قسم کی چیزیں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی وجہ سے ہیں اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔فرمایا کہ وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے (اسی سے تمام فیض پھوٹتے ہیں۔وہی تمام نوروں کا سبب اور ذریعہ ہے۔وہی ہے جہاں سے رحمتوں کے چشمے پھوٹتے ہیں ) اس کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیروزبر کی پناہ ہے۔“ ( یعنی تمام دنیا کے قائم رکھنے کے لئے اور جو بھی اس میں شکست وریخت ہو رہی ہے یا جو بھی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ اسی کی طرف لوٹتی ہیں ) وہی ہے جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا ( جو اندھیروں میں پڑی ہوئی چیزیں تھیں ان کو باہر نکالا ) ” اور خلعت وجود بخشا۔بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاته واجب اور قدیم ہو۔“ ( اس کے علاوہ کوئی ہستی نہیں ، کوئی وجود نہیں جو اپنی ذات میں اس بات کا حقدار ٹھہرتا ہو اور ہمیشہ سے ہو ) یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔( یہ دنیا ، ہماری دنیا بھی ، آسمان بھی ، انسان بھی ، حیوان بھی ، پتھر بھی ، درخت بھی، روح جسم ہر چیز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہی وجود میں ہے۔) ( براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 192-191 حاشیہ نمبر 11) پھر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کے بارے میں وضاحت فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل میں اور تاثیر میں۔سو اس سورۃ میں “ (یعنی سورۃ اخلاص میں ان