خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد 12 232 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔پس خدا سے ڈروالے جو انمر دو اور مجھے پہچانو اور نافرمانی مت کرو اور نا فرمانی پرمت مرو اور زمانہ نزدیک آ گیا ہے اور وہ وقت نزدیک ہے کہ ہر ایک جان اپنے کاموں سے پوچھی جائے اور بدلہ دی جائے۔“ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 69-71) پس یہ وہ عظیم الشان نشان ہے، یہ عظیم الشان الفاظ ہیں، یہ دعوت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے دی۔اللہ تعالیٰ کے الہام سے آپ نے دنیا کو دی اور یہ نشان جیسا کہ میں نے کہا 11 اپریل 1900 ء کو ظہور میں آیا، آج تک اپنی چمک دکھلا رہا ہے اور آج تک کوئی ماہر سے ماہر زبان دان اور بڑے سے بڑا عالم اور ادیب بھی چاہے وہ عرب کا رہنے والا ہے اس کا مقابلہ نہیں کر سکا۔اور کس طرح یہ مقابلہ ہو سکتا ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام تھا جو آپ علیہ السلام کی زبان سے ادا ہوا۔اللہ تعالیٰ دنیا کو اور خاص طور پر عرب مسلمانوں کو عقل اور جرأت دے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرستادے کے پیغام کو سمجھیں اور امت مسلمہ کو آج پھر امت واحدہ بنانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کے مددگار بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد میں دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ان میں سے ایک جنازہ مکرمہ حنیفاں بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب بھٹی بھوڑ و چک ضلع شیخو پورہ کا ہے جو 3 را پریل 2014ء کو 84 سال کی عمر میں وفات پاگئیں تھیں۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ نے 1953ء میں ایک خواب کی بناء پر بیعت کر کے جماعت میں شمولیت کی سعادت پائی تھی۔جلسہ سالانہ ربوہ میں آپ نے خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو بتایا کہ خواب میں بیعت کے لئے کہنے والے بزرگ حضور ہی تھے۔آپ بہن بھائیوں میں اکیلی احمدی تھیں اور پنجوقتہ نمازی، تہجد گزار، بڑی دعا گو تھیں۔غریب پرور نیک دل مخلص خاتون تھیں۔جماعت سے اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔عہدے داران کی بڑی عزت کرتی تھیں۔ان کے پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے ہیں۔اپنے ایک بیٹے مکرم محمد افضل بھٹی صاحب کو انہوں نے جامعہ بھیجا۔وہ تنزانیہ میں مبلغ سلسلہ ہیں اور وہاں خدمت بجالا رہے ہیں اور میدانِ عمل میں ہونے کی وجہ سے اپنی والدہ کے جنازے پر بھی شامل نہیں ہو سکے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے اور ان کے اس بیٹے کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے جو میدان عمل میں دین کی خدمت بجالا رہا ہے۔