خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 231
خطبات مسرور جلد 12 231 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء الشَّرِ وَتَدَارُكِ عَطَشِ الْأَكْبَادِ بِالْعِهَادِ۔أَلَيْسَ سَيْلُ الشَّرِ قَلْبَلَغَ انْتِهَاءَهُ وَذَيْلُ الْجَهْل طَوَلَ أَرْجَاءَهُ وَفَسَدَ الْمُلْكُ كُلُّهُ وَشَكَرَ إِبْلِيسُ جُهَلَاءَهُ فَاشْكُرُوا اللهَ الَّذِي تذكَرَكُمْ وَتَذَكَرَ دِيْنَكُمْ وَمَا أَضَاعَهُ۔وَعَصَمَ حَرْثَكُمْ وَزَرْعَكُمْ وَلُعَاعَهُ۔وَأَنْزَلَ الْمَطَرَ وَأَكْمَلَ أَبْضَاعَهُ۔وَبَعَثَ مَسِيحَهُ لِدَفْعِ الضَّيْرِ۔وَمَهْدِيَّهُ لافَاضَةِ الْخَيْرِ وَأَدْخَلَكُمْ فِي زَمَانِ اِمَامِكُمْ بَعْدَ زَمَانِ الْغَيْرِ (کہ) اے لوگو! خدا کے لئے تم سب کے سب یا اکیلے اکیلے خدا کا خوف کر کے اس آدمی کی طرح سوچو جو نہ بخل کرتا ہے اور نہ دشمنی۔کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ خدا بندوں پر رحم کرے؟ اور کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ بدی کو دفع کیا جائے اور جگروں کی پیاس کا مینہ برسانے سے تدارک کیا جائے ؟ کیا بدی کا سیلاب اپنی انتہا کو نہیں پہنچا ؟ اور جہالت کے دامن نے اپنے کناروں کو نہیں پھیلایا ؟ اور ملک فاسد ہو گیا اور شیطان نے جاہلوں کا شکریہ ادا کیا۔پس اس خدا کا شکر کرو جس نے تم کو یاد کیا اور تمہارے دین کو یا دکیا اور ضائع ہونے سے محفوظ رکھا اور تمہارے بوئے ہوئے کو اور تمہاری زراعت کو آفتوں سے بچایا اور مینہ نازل فرما یا اور اس کے سرمایہ کو کامل کیا اور اپنے مسیح کو ضرر کے دور کرنے کے لئے اور اپنے مہدی کو خیر اور نفع پہنچانے کے لئے بھیجا اور تمہیں تمہارے امام کے زمانے میں غیر کے زمانہ کے بعد داخل کیا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 66-67) وَإِنِّي عَلَى مَقَامِ الْخَتمِ مِنَ الْوِلَايَةِ كَمَا كَانَ سَيْدِي الْمُصْطَفَى عَلَى مَقَامِ الختمِ مِنَ النُّبُوَّةِ۔وَإِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاء وَانَا خَاتَمُ الْأَوْلِيَاء لَا وَلَى بَعْدِي إِلَّا الَّذِي هُوَ مِنِى وَعَلَى عَهْدِى وَإِنِّي أُرْسِلْتُ مِن رَّبِّي بِكُلِّ قُوَّةٍ وَبَرَكَةٍ وَعِزَّةٍ وَإِنَّ قَدَعِي هَذِهِ عَلَى مَنَارَةٍ خُتِمَ عَلَيْهَا كُلُّ رِفْعَةٍ فَاتَّقُوا اللهَ أَيُّهَا الْفِتْيَانُ وَاعْرِفُونِي وَأَطِيعُونِي وَلَا تَمُوتُوا بِالْعِصْيَانِ وَقَدْ قَرُبَ الزَّمَانُ وَحَانَ أَنْ تُسْئَلَ كُلُّ نَفْسٍ وَتُدَانُ اور میں ولایت کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے سلسلے کو ختم کرنے والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہو گا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت اور برکت