خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 228
خطبات مسرور جلد 12 228 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء نہیں ملتا تم سے زیادہ فصیح و بلیغ ہے وغیرہ وغیرہ حضور نے بڑے جوش سے عربی میں ایسی فصیح گفتگو فرمائی کہ پاس بیٹھے ایک سید صاحب بھی مولوی عبد القادر کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ واقعہ میں ان کی زبان ہم لوگوں سے زیادہ فصیح ہے۔اس پر مولوی عبد القادر نے کچھ نرمی اختیار کی اور پھر ادب سے گفتگو کرنے لگے۔بہر حال دوران گفتگو انہوں نے (علامہ مغربی صاحب نے ) یہ بھی کہا کہ حضرت مسیح موعود کی کتب میں زبان کی غلطیاں ہیں۔اس کا بھی جواب حضرت خلیفہ ثانی نے دیا۔فرمایا کہ تم میں اگر طاقت ہے تو اب ہی اغلاط کا اعلان کر دو یا ان کتب کا جواب لکھ کر شائع کر دو۔پر یا درکھو کہ تم ہرگز نہ کر سکو گے۔اگر قلم اٹھاؤ گے تو تمہاری طاقت تحریر سلب کر لی جاوے گی۔تجربہ کر کے دیکھ لو۔ان باتوں پر اب اس نے منت سماجت شروع کی کہ آپ ان دعووں کو عرب مصر اور شام میں نہ پھیلائیں اس سے اختلاف بڑھتا ہے اور اختلاف اس وقت ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہے۔وہابیوں نے پہلے ہی سخت صدمہ پہنچایا ہوا ہے۔آپ بلا د یورپ ، امریکہ اور افریقہ کے کفار اور نصاریٰ میں تبلیغ کریں۔مبشر بھیجیں لیکن یہاں ہرگز ایسے عقائد کا نام نہ لیں خدا کے واسطے۔انا ارجُوكُمْ يَا سَیّدِی کبھی بوسہ دے کر کبھی ہاتھوں کو لپیٹ کر غرض ہر رنگ میں بار بارمنت کرتا تھا کہ خدا کے واسطے ان علاقہ جات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات کا اعلان نہ کریں اور نہ مبلغ بھیجیں وغیرہ وغیرہ۔پھر کہنے لگے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اچھے آدمی تھے۔اسلام کے لئے غیرت رکھتے تھے مگر ان کی نبوت اور رسالت کو ہم تسلیم نہیں کرسکتے۔صرف لا اله الا اللہ پر لوگوں کو جمع کریں۔خیر ان باتوں کا جواب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بڑے پر شوکت الفاظ میں ، لہجے میں دیا کہ اگر یہ منصوبہ ہمارا ہوتا تو ہم چھوڑ دیتے۔مگر یہ خدا کا حکم ہے اس میں ہمارا اور سید نا احمد کا کوئی دخل نہیں۔خدا کا یہ حکم ہے ہم پہنچائیں گے اور ضرور پہنچا ئیں گے۔۔۔۔انہیں مغربی صاحب کا یہ واقعہ آگے چل رہا ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو شام بھیجا۔اس زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ایک دن میں اور حضرت مولانا شمس صاحب بعض دوستوں سے احمدیت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ شیخ عبد القادر المغر بی مرحوم تشریف لائے اور بیٹھ کر ہماری باتیں سنیں۔اثنائے گفتگو استخفاف سے اپنی سابقہ ملاقات کا ذکر کیا “ (یعنی جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے ہوئی تھی بڑے تحقیر کے الفاظ میں۔۔۔۔۔اور جو مشورہ حضور کو دیا تھا اسے دہرایا۔( یعنی تبلیغ