خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 227
خطبات مسرور جلد 12 227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء لگے کہ میرا یہ جواب صرف یہاں کے لئے ہی ہے۔اگر پبلک میں سوال کرو گے تو میں یہی کہوں گا کہ امتی نبی بھی نہیں آسکتا (لوگوں کے سامنے میں نہیں کہوں گا۔ہاں اگر آپ جماعت احمدیہ میں شامل ہونا چاہئیں تو بیشک میری ذمہ داری پر داخل ہو جائیں۔جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے لئے بعض روکیں ہیں جن میں سب سے بڑی یہ ہے کہ اگر میں احمدی ہو جاؤں تو مجھے ملازمت سے نکال دیا جائے گا“ ( دنیا داری غالب آگئی ”یہ مصری دوست کہتے ہیں کہ جب میں نے ازھری عالم سے یہ بات سنی تو فوراً جماعت میں داخل ہونے کا نعم ارادہ کر لیا ور خطبہ الہامیہ پڑھنا شروع کردیا اور تم کر کے سو یا۔رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت سیدنا احمد اسیح علیہ السلام ایک کثیر جماعت کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے ہیں۔میں نے دریافت کیا کہ حضور یہ کون لوگ ہیں؟ اور انہیں آپ کہاں لے کے جار ہے ہیں۔آپ نے فرمایا: یہ اولیاء اللہ ہیں جو امت محمدیہ میں مجھ سے پہلے ہوئے ہیں اور میں ان کو دربار رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں زیارت کے لئے لے کے جا رہا ہوں۔میں خاتم الاولیاء ہوں۔میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہی جو میری جماعت میں سے ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جو امتی نبی ہو جیسے میں ہوں۔جب میں بیدار ہوا تو میرے لئے مسئلہ ختم نبوت حل ہو چکا تھا اور میں بہت خوش تھا۔“ حاجی عبد الکریم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت ان کا یہ واقعہ اور بیعت فارم پر کر کے قادیان روانہ کر دیا۔“ ایک صاحب شیخ عبد القادر المغر بی بڑے چوٹی کے عالم تھے۔”حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے ان علامہ المغربی سے علمی ، ادبی اور دینی مزاج کی وجہ سے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔آپ سے ان کی پہلی ملاقات 1916ء میں ہوئی تھی۔ایک دفعہ علامہ المغر بی نے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کو کہا کہ آئیے ہم دونوں تصویر بنائیں اور دوستی کا اقرار قرآن مجید پر ہاتھ رکھتے ہوئے کیا۔اسی دوستی کی وجہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب دمشق گئے ہیں تو مولوی عبد القادر صاحب بھی آپ سے ملنے آگئے اور بہت سے سوالات آپ سے کئے اور جب حضرت مصلح موعودؓ نے جواب دیئے تو انہوں نے پھر یہ کہ دیا کیونکہ علامہ تھے، ضد بھی تھی ) کہ ہم لوگ عرب ہیں ، اہل زبان ہیں۔قرآن مجید کو خوب سمجھتے ہیں ہم سے بڑھ کر کون قرآن کو سمجھے گا۔اس پر خیر باتیں ہوتی رہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے یہ فرمایا کہ تم لوگ بھی اسی طرح سے لغت کے محتاج ہو جس طرح سے ہم ہیں۔قرآن خدا نے ہمیں سکھایا ہے اور سمجھایا ہے اور ہماری زبان با وجود یہ کہ ہم لوگ اردو میں گفتگو کرنے کا محاورہ رکھتے ہیں اور عربی میں بولنے کا ہمیں موقع