خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد 12 229 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء یہاں نہ کریں) اور مذاقاً کہا کہ الہامات کی عربی عبارت بھی درست نہیں۔( یعنی حضرت مسیح موعود کے الہامات کی عربی عبارت بھی درست نہیں ہے تو کہتے ہیں ) میں نے خطبہ الہامید ان کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ پڑھیں کہاں عربی غلط ہے۔انہوں نے اونچی آواز سے پڑھناشروع کیا اور ایک دولفظوں سے متعلق کہا کہ یہ عربی لفظ ہی نہیں۔تو مولانا شمس صاحب نے (وہاں بیٹھے ہوئے تھے ) تاج العروس ( عربی کی ایک لغت ہے ) الماری سے نکالی اور وہ لفظ نکال کر دکھائے۔سامعین کو حیرت ہوئی اور شاہ صاحب کہتے ہیں میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کہا کہ کہلاتے تو آپ بڑے ادیب ہیں، بڑے عالم ہیں لیکن آپ کو اتنی عربی بھی نہیں آتی جتنی میرے شاگرد کو آتی ہے۔( کہتے ہیں شمس صاحب ان دنوں مجھ سے انگریزی پڑھا کرتے تھے تو اس لئے میں نے ان کو شاگرد کہا۔) اس پر انہیں بڑا غصہ آیا اور یہ کہتے ہوئے اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا اور کل بتاؤں گا تمہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔خیر شاہ صاحب کہتے ہیں۔۔۔۔۔میں نے دیکھا کہ جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ میری باتوں سے کچھ متاثر ہیں تو ان کو بھی میں نے کہا کہ ہم دونوں اکٹھے رہے ہیں۔میں بھی وہاں پڑھایا کرتا تھا اور ان کو علامہ صاحب کو خطبہ الہامیہ پڑھ کر ایسی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا۔بجائے اس کے حق بات ان کو مان لینی چاہئے تھی۔خیر یہ دوستوں میں باتیں ہوتی رہیں۔دوسرے دن کہتے ہیں صبح سویرے شمس صاحب نے مجھے کہا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کو کہا تھا کہ عبد القادر المغربی سے بگاڑ نہیں پیدا کرنا، تعلقات رکھیں تو آپ نے تو انہیں ناراض کر دیا ہے۔تو میں نے کہا فکر نہ کر ٹھیک کر لیں گے۔دوسرے دن ہم دونوں صبح سویرے علامہ صاحب کے مکان پر گئے۔دروازہ کھٹکھٹایا تو مغربی صاحب تشریف لے آئے اور آتے ہی مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور مجھے بوسہ دیا اور کہا کہ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔میں آپ کی طرف آنا ہی چاہتا تھا۔اندر تشریف لے آئیں۔قہوہ پیئیں اور میں آپ کو دکھاؤں کہ میری رات کیسے گزری۔ہم اندر گئے تو انہوں نے رسالہ الحقائق عن الاحمدیہ ( یہ حضرت ولی اللہ شاہ صاحب کی تألیف تھی ) کی طرف اشارہ کیا اور کہا۔یہ رسالہ میرے ہاتھ میں تھا اور پختہ ارادہ کیا کہ اس رسالے کا رڈ شائع کروں۔میں نے حدیث اور تفاسیر کی کتب جو میرے پاس تھیں وہ میز پر رکھ لیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر رڈ لکھنا شروع کر دیا۔ادھر سے رسالہ پڑھتا اور رڈ لکھنے کے لئے کتا بیں دیکھتا۔ایک رڈ لکھتا اس میں تکلف معلوم ہوتا اسے پھاڑ دیتا۔ایک اوررد لکھتا اسے بھی پھاڑ دیتا۔اسی طرح رات گزرگئی۔بیوی نے بھی کہا کیا ہو گیا ہے تمہیں واپس آ جاؤ۔سو جاؤ ( کہتے ہیں کہ ) آخر صبح فجر کی اذان ہوگئی اور میں کچھ نہیں لکھ سکا۔ہر بات جو میں لکھتا تھا مجھےلگتی تھی یہ تو غلط