خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد 12 187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء جماعت کے لیے اللہ تعالیٰ نے کمی نہیں کی۔کوئی شخص کسی کے سامنے کبھی شرمندہ نہیں ہوسکتا۔جس قدر لوگ اس سلسلہ میں داخل ہیں ان میں سے ایک بھی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔“ (یعنی اُس زمانے میں بھی اور اب بھی جو بھی بیعت کر کے شامل ہوتے ہیں نشان دیکھ کے ہوتے ہیں اور جو پیدائشی احمدی ہیں ان کو بھی ان اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کو پڑھتے رہنا چاہئے ، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو پڑھتے رہنا چاہئے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی طرف متوجہ رکھنا چاہئے۔) فرمایا کہ: ”براہین احمدیہ کو پڑھو اور اس پر غور کرو اس زمانہ کی ساری خبریں اس میں موجود ہیں۔دوستوں کے متعلق بھی ہیں اور دشمنوں کے متعلق بھی۔اب کیا یہ انسانی طاقت کے اندر ہے کہ تیس برس پہلے جب ایک سلسلہ کا نام ونشان بھی نہیں اور خود اپنی زندگی کا بھی پتہ نہیں ہوسکتا کہ میں اس قدر عرصہ تک رہوں گا یا نہیں، ایسی عظیم الشان خبریں دے اور پھر وہ پوری ہو جائیں نہ ایک نہ دو بلکہ ساری کی ساری براہین احمدیہ، احمد یہ لوگوں کے گھروں میں بھی ہے عیسائیوں اور آریوں اور گورنمنٹ تک کے پاس موجود ہے اور اگر خدا کا خوف اور سچ کی تلاش ہے تو میں کہتا ہوں کہ براہین کے نشانات پر ہی فیصلہ کرلو۔دیکھواس وقت جب کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور کوئی یہاں آتا بھی نہیں تھا، ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا اس جماعت کی جو یہاں موجود ہے خبر دی۔اگر یہ پیشگوئی خیالی اور فرضی تھی تو پھر آج یہاں اتنی بڑی جماعت کیوں ہے؟ اور جس شخص کو قادیان سے باہر ایک بھی نہیں جانتا تھا اور جس کے متعلق براہین میں کہا گیا تھا فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّائیں۔( یعنی سو وقت آگیا ہے جو تیری مدد کی جائے اور تجھے لوگوں میں معروف مشہور کیا جائے) فرمایا۔آج کیا وجہ ہے کہ وہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عرب، شام، مصر سے نکل کر یورپ اور امریکہ تک دنیا اس کو شناخت کرتی ہے ( بلکہ افریقہ میں بھی (اور یہ جو پچھلے دنوں میں قادیان سے عرب دنیا کے لئے تین دن پروگرام ہوتا رہا ہے اس نے تو دنیا میں، عرب دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔فرمایا: اگر یہ خدا کا کلام نہیں تھا اور خدا کے منشاء کے خلاف ایک مفتری کا منصوبہ تھا تو خدا نے اس کی مدد کیوں کی؟ کیوں اس کے لیے ایسے سامان اور اسباب پیدا کر دیئے ؟ کیا یہ سب میں نے خود بنالیے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ اسی طرح پر کسی مفتری کی تائید کیا کرتا ہے تو پھر راستبازوں کی سچائی کا معیار کیا ہے؟ تم خود ہی اس کا جواب دو۔سورج اور چاند کو رمضان میں گرہن لگنا کیا یہ میری اپنی طاقت میں تھا کہ میں اپنے وقت میں کر لیتا اور جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سچے مہدی کا نشان قرار دیا