خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 188

خطبات مسرور جلد 12 188 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء تھا اور خدا تعالی نے۔۔۔اس نشان کو میرے دعوی کے وقت پورا کر دیا۔اگر میں اس کی طرف سے نہیں تھا تو کیا خدا تعالیٰ نے خود دنیا کو گمراہ کیا ؟ اس کا سوچ کر جواب دینا چاہئے کہ میرے انکار کا اثر کہاں تک پڑتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور پھر خدا تعالیٰ کی تکذیب لازم آتی ہے۔اسی طرح پر اس قدر نشانات ہیں کہ ان کی تعداد دو چار نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں تک ہے۔تم کس کس کا انکار کرتے جاؤ گے؟ ای براہین میں یہ بھی لکھا ہے۔يَأْتُونَ مِن كُلِّ فَجَ عَمِيقٍ۔اب تم خود آئے ہو تم نے ایک نشان پورا کیا ہے۔اس کا بھی انکار کرو۔اگر اس نشان کو جو تم نے اپنے آنے سے پورا کیا ہے مٹا سکتے ہو تو مٹاؤ۔میں پھر کہتا ہوں کہ دیکھو آیات اللہ کی تکذیب اچھی نہیں ہوتی۔اس سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے۔میرے دل میں جو کچھ تھا میں نے کہہ دیا ہے۔اب ماننا نہ ماننا تمہارا اختیار ہے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں صادق ہوں اور اسی کی طرف سے آیا ہوں۔“ 66 ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 453 تا 455) یہ جو آخری پیرا ہے کہ تم خود آئے ہو اور تم نے نشان پورا کیا ہے، یہ جس کو آپ فرما رہے ہیں ایک نو مسلم تھا جو مسلمان تو ہو گیا تھا لیکن آپ سے آ کے نشان دکھانے کی درخواست کی تھی۔اس پر آپ نے یہ تفصیل سے اس کو سمجھایا تھا کہ نشان کا کیا کہتے ہو؟ یہ یہ نشان پورے ہوئے اور تمہارا آنا بھی ایک نشان ہے اور آج تو ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک میں یہ نشانات ظاہر ہورہے ہیں۔پھر بیماری سے شفا کے نشانات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : سردار نواب محمد علی خانصاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبد الرحیم خاں ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا تھا ( بڑا تیز بخار تھا) اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہیں دیتی تھی گو یا مردہ کے حکم میں تھا۔اسوقت میں نے اسکے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔تب میں نے جناب الہی میں عرض کی کہ یا الہی میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔اسکے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرما یا مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِہ۔یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔تب میں خاموش ہو گیا۔بعد اس کے بغیر توقف کے یہ الہام ہوا۔إِنَّكَ أَنتَ الْمَجَاز - یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خدا تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیا اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد