خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 186
خطبات مسرور جلد 12 186 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء سے کلام کیا ہے؟ یہاں تو لاکھوں ثبوت موجود ہیں۔ایک ایک کارڈ اور ایک ایک آدمی اور ایک ایک روپیہ جو آب آتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا ایک زبردست نشان ہے کیونکہ ایک عرصہ دراز پیشتر خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تالون من كل فج عربي وتأييك من كل فنج کریں اور ایسے وقت فرمایا تھاکہ کوئی شخص بھی مجھے نہ جانتا تھا۔اب یہ پیشگوئی کیسے زور شور سے پوری ہو رہی ہے۔کیا اس کی کوئی نظیر بھی ہے؟ غرض ہمیں ضرورت کیا پڑی ہے کہ ہم زندہ خدا کو چھوڑ کر مردوں کو تلاش کریں۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 323 324) پھر آپ فرماتے ہیں۔۔۔دیکھو میں سچ کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی آیات کی بے ادبی مت کرو اور انہیں حقیر نہ سمجھو کہ یہ محرومی کے نشان ہیں اور خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔ابھی کل کی بات ہے کہ لیکھرام خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نشان کے موافق مارا گیا۔کروڑوں آدمی اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔خود لیکھرام نے اسے شہرت دی۔وہ جہاں جاتا اسے بیان کرتا۔یہ نشان اسلام کی سچائی کے لئے اس نے خود مانگا تھا اور اس کو نیچے اور جھوٹے مذہب کے لیے بطور معیار قائم کیا تھا۔آخر وہ خود اسلام کی سچائی اور میری سچائی پر اپنے خون سے شہادت دینے والا ٹھہرا۔اس نشان کو جھٹلانا اور اس کی پروا نہ کرنا یہ کس قدر بے انصافی اور ظلم ہے پھر ایسے کھلے کھلے نشان کا انکار کرنا تو خود دیکھر ام بنا ہے اور کیا؟ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ جس حال میں خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا ہے کہ اس نے ہر قوم کے متعلق نشانات دکھائے۔جلالی اور جمالی ہر قسم کے نشان دیئے گئے پھر ان کو رڈی کی طرح پھینک دینا یہ تو بڑی ہی بد بختی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا مور د بننا ہے۔جو آیات اللہ کی پروا نہیں کرتا وہ یادر کھے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نشان ظاہر ہوتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک عقلمند خدا ترس ان کو شناخت کر لیتا ہے اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن جو فراست نہیں رکھتا اور خدا کے خوف کو مد نظر رکھ کر اس پر غور نہیں کرتا وہ محروم رہ جاتا ہے کیونکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ دنیا دنیا ہی نہ رہے اور ایمان کی وہ کیفیت جو ایمان کے اندر موجود ہے نہ رہے۔ایسا خدا تعالیٰ کبھی نہیں کرتا۔اگر ایسا ہوتا تو یہودیوں کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ حضرت مسیح کا انکار کرتے۔موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیوں ہوتا اور پھر سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر تکالیف کیوں برداشت کرنی پڑتیں۔خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہی نہیں کہ وہ ایسے نشان ظاہر کرے جو ایمان بالغیب ہی اٹھ جاوے۔ایک جاہل وحشی سنت اللہ سے ناواقف تو اس چیز کو معجزہ اور نشان کہتا ہے جو ایمان بالغیب کی مڈ سے نکل جاوے مگر خدا تعالیٰ ایسا کبھی نہیں کرتا۔ہماری