خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 181
خطبات مسرور جلد 12 181 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء کہا کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا میں ہر جگہ یہ پیغام پہنچ رہا ہے۔اسی طرح پہلے تو امرتسر پریس میں جاتے تھے۔آج قادیان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام تر جدید سہولیات کے ساتھ پر میں جاری ہے اور وہاں کتابیں چھپ رہی ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمد أخدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہوسکتا ہے۔“ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 168 ) بہر حال یہ چند نشانات میں نے ان میں سے پیش کئے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے یہ لاکھوں میں ہیں۔یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے نشان ہیں اور صرف یہ نشان اس وقت میں بند نہیں ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اور ہزاروں لوگ یہ نشانات دیکھ کر سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہورہے ہیں۔بیعتیں کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی بیعت میں آتے ہیں۔ہاں بعض جگہوں پر احمدیوں کو تکالیف کا ضرور سامنا ہے، مشکلات کا سامنا ہے۔وقت آئے گا کہ انشاء اللہ تعالیٰ وہ بھی دُور ہو جائیں گی اور ہمارے ایمان وایقان اور معرفت میں یقینا ان کو دیکھتے ہوئے اضافہ ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: برائے خدا ناظرین اس مقام میں کچھ غور کریں تا خدا ان کو جزائے خیر دے ورنہ خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا۔اور اُسی کی ذات کی مجھے قسم ہے کہ وہ بس نہیں کرے گا جب تک میری سچائی دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔پس اے تمام لوگو! جو میری آواز سنتے ہو خدا کا خوف کرو اور حد سے مت بڑھو۔اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو خدا مجھے ہلاک کر دیتا اور اس تمام کاروبار کا نام ونشان نہ رہتا۔مگر تم نے دیکھا کہ کیسی خدا تعالیٰ کی نصرت میرے شامل حال ہو رہی ہے اور اس قدر نشان نازل ہوئے جو شمار سے خارج ہیں۔دیکھو کس قدر دشمن ہیں جو میرے ساتھ مباہلہ کر کے ہلاک ہو گئے۔اے بندگان خدا! کچھ تو سوچو، کیا خدا تعالیٰ جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے؟ (تتمہ حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 554)