خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد 12 182 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء جیسا کہ میں نے بتایا کہ آج 125 سال ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جا رہا ہے۔پس کیا یہ لوگ عقل استعمال نہیں کریں گے ؟ مخالفین اپنی مخالفتوں سے باز نہیں آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ سے دعا ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ زمانے کے امام اور مسیح موعود کو پہچاننے والے ہوں۔ورنہ جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر یہ تمام مخالفین جو ہیں، چاہے جتنی طاقت رکھنے والے ہوں، خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتے ہیں۔ایک سوکھی ہوئی لکڑی کی طرح بھسم ہو جاتے ہیں۔اللہ کرے کہ ان کو عقل آئے اور یہ پہچاننے والے بنیں۔اس کے علاوہ میں پھر آج دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں۔شام کے احمدیوں کے لئے بھی دعا کی خاص ضرورت ہے۔پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی خاص ضرورت ہے۔اسی طرح بعض تکلیفیں اور مشکلات مصر کے احمدیوں کو بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کی مشکلات دور فرمائے اور اس بارے میں بھی ہم خاص نشان دیکھنے والے ہوں تا کہ یہ آزادی سے اپنے مذہب کا اظہار بھی کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے بھی ہوں۔جہاں ہم پر یہ پابندیاں ہیں کہ ہم عبادتیں نہیں کر سکتے ، نمازیں ادا نہیں کر سکتے ، وہاں ہر جگہ یہ پابندیاں بھی اللہ تعالیٰ دُور فرمائے۔آج میں نمازوں کے بعد ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ محترمہ لطیفہ الیاس صاحبہ۔بالٹی مور۔یوایس اے (USA) کا ہے جو 9 مارچ کو بقضائے الہی وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ محتر مہ لطیفہ الیاس صاحبہ افریقن امریکن خاتون تھیں جنہیں اسلام احمدیت قبول کئے تقریباً پچاس سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔وفات کے وقت ان کی عمر 76 سال تھی۔نہایت سادہ مخلص اور متقی احمدی تھیں۔خلافت سے بھی انہیں بے پناہ عشق تھا۔مسجد کی جیسے وہ جان تھیں۔ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا جمال الیاس ہے جو مخلص احمدی ہے۔ان کے صدر جماعت لکھتے ہیں کہ محدود وسائل ہونے کے باوجود سسٹر لطیفہ اپنے گھر سے صفائی کا سامان لاتیں اور گھنٹوں مسجد کی صفائی میں مصروف رہتیں اور اکثر ایسے اوقات میں صفائی کرتیں جب انہیں خیال ہوتا کہ مسجد میں ان کو کوئی دیکھ نہ لے تاکہ کسی قسم کی ریا کاری نہ ہو۔مسجد صاف کرتے وقت بھی، ویسے بھی ہر وقت تسبیح و تحمید کرتی رہتی تھیں۔رمضان المبارک میں بھی افطار سے دو گھنٹے پہلے مسجد آجاتیں۔کچن کی صفائی کرتیں اور کبھی انہوں نے شکایت نہیں کی کہ لوگ کیوں گند ڈال جاتے ہیں۔ہمیشہ یہ کہا کرتی تھیں کہ خدمت دین کو اک فضل الہی جانو۔عملاً اس کی تصویر