خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 168
خطبات مسرور جلد 12 168 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم وصلوٰۃ اور دعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن علم ، عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عرب اسمه وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب تو فیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجالا وے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ان سب اعمال صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اس کے بنین و بنات ہیں۔“ 66 آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 187-188) یہ اقتباس بڑا اہم ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ عام آدمی کے سمجھنے کے لئے بھی اس کی کچھ وضاحت کر دوں۔پہلی بنیادی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی کہ اسلام کی حقیقت اسی کو پتہ چل سکتی ہے جب کوئی گہرائی میں جا کر اس کا علم اور معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرے یا اس وقت پتہ لگ سکتی ہے جب یہ کوشش کی جائے کہ علم اور معرفت حاصل ہو۔فرمایا کہ اسلام کی حقیقت کے حصول کے لئے بہت سے ذریعے ہیں اور اسلام کی حقیقت انہی پر واضح ہو سکتی ہے جو ان ذریعوں کو حاصل کریں۔بے شمار ذریعے ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش ہو گی تبھی اسلام کی حقیقت واضح ہوگی۔ان ذرائع میں نماز ہے، روزہ ہے، دعا ہے اور وہ تمام احکام الہی ہیں جو قرآن کریم میں درج ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد چھ سو سے زیادہ ہے۔لیکن یا درکھونہ نماز کی حقیقت معلوم ہوسکتی ہے، نہ روزے کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔یعنی حقیقی طور پر نہ نماز کی ادائیگی کا فرض ادا ہو سکتا ہے، نہ روزے کی ادا ئیگی کا فرض ادا ہو سکتا ہے، نہ دعا کی حقیقت کا علم ہو سکتا ہے، نہ ہی قرآن کریم کے باقی احکامات کا صحیح فہم و ادراک ہوسکتا ہے۔ان سب باتوں کی گہرائی ، اہمیت اور حقیقت کا علم تبھی ہو گا جب اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم اور معرفت حاصل ہو۔جب اللہ تعالیٰ کی ذات کی وحدانیت کی معرفت حاصل ہو۔یہ یقین ہو کہ وہی ایک خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں۔اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی جو مختلف صفات ہیں جن میں صفات جلالی بھی ہیں اور صفات جمالی بھی ہیں ان کی نئی سے نئی شان کا فہم و ادراک اور معرفت نہ ہو تو اس وقت تک احکامات پر عمل نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک ہوگا تو تبھی اس کے احکامات پر عمل بھی صحیح طرح ہو سکے گا۔گو یا اگر نماز روزہ اور