خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 167

خطبات مسرور جلد 12 167 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014ء بمطابق 21 امان 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چند تحریرات اور اقتباسات ارشادات پیش کروں گا جن میں آپ نے اپنی صداقت اور نشانات و معجزات کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن اس سے پہلے میں گزشتہ خطبہ کے حوالے سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔گزشتہ خطبہ میں میں نے آپ علیہ السلام کے معرفت الہی کی اہمیت اور حصول کے طریق کے بارے میں کچھ اقتباسات پڑھے تھے اور ایک دو مشکل حوالوں کی مختصر وضاحت بھی کی تھی۔لیکن بعد میں جب میں نے اس خطبہ کا ابتدائی انگریزی ترجمہ سنا اور پھر الفضل میں چھپنے کے لئے خطبہ تحریری شکل میں میرے سامنے آیا تو مجھے احساس ہوا کہ ایک اقتباس کی وضاحت صحیح طور پر نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے شاید مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے والوں کو دقت ہوئی ہو۔اسی طرح تحریر میں لانے والے کو بھی دقت ہوئی۔اس لئے آج میں پہلے اس اقتباس کی چند سطریں یا اس کا کچھ حصہ پڑھ کر آسان الفاظ میں اس کو مختصرا بیان کروں گا یا بیان کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو علم کلام ہے اس کو بڑی گہرائی میں جا کر غور کرنا پڑتا ہے، سمجھنا پڑتا ہے۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ احکام الہی پر عمل بغیر معرفت الہی کے نہیں ہو سکتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : در علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگر چہ حصولِ