خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد 12 146 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014 ء b يقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ، وَلَوْ لا دَفَعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ طَ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ (الحج : 41-40) یعنی اُن لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے، قتال کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ اُن پر ظلم کئے گئے۔اور یقینا اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔یعنی وہ لوگ جنہیں اُن کے گھروں سے ناحق نکالا گیا۔محض اس بناء پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع اُن میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معاہد بھی اور مساجد بھی ، جس میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور یقیناً اللہ ضرور اُس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقیناً اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے۔میں نے بتایا کہ اس آیت کی روشنی میں مظلوموں کو دفاع کی اجازت دی گئی۔دوسرے اس اجازت میں تمام مذاہب کو محفوظ کیا گیا ہے اور پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ خدا تعالی طاقتوں کا مالک ہے، وہ کفار کے خلاف کمزور مسلمانوں کی مدد کی طاقت رکھتا ہے۔کفار با وجودا اپنی تمام تر طاقت کے اور ہتھیاروں کے شکست کھا ئیں گے اور خدا تعالیٰ نے اپنے وجود کا ثبوت دیتے ہوئے پھر کمزور مسلمانوں کو کفار پر فتح بھی عطا فرمائی۔اور اپنے سے بہت بڑے لشکر اور بہت اسلحہ سے لیس لشکر کو شکست دی۔پس جو جنگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے خلفائے راشدین نے لڑیں، وہ دفاع کے لئے اور امن قائم کرنے کے لئے لڑیں ، نہ کہ حکومتیں حاصل کرنے کے لئے۔اور اس وجہ سے پھر اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی رہی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔پھر میں نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کی کمزور اور مذہب سے دور جانے کی حالت کی پیشگوئی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔اور آج اگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی ظلم ہورہا ہے یا اُن کی بگڑی ہوئی حالت ہم دیکھتے ہیں تو یہ عین پیشگوئی کے مطابق ہے۔اور پھر یہ بھی بتا یا کہ مسلمانوں کی آخری حالت یہ نہیں ہے کہ تم سمجھ لو کہ یہ انتہا ہوگئی اور مسلمان ختم ہو گئے۔میرا یہ بھی ایمان ہے اور اس پر میں مضبوط ہوں کہ جس طرح مسلمانوں کے بگڑنے کی پیشگوئی پوری ہوئی، اُن کی روحانی حالت کی بہتری کی پیشگوئی بھی پوری ہوگی جو مسیح موعود کی آمد کے ساتھ ہوئی تھی۔پھر میں نے بتایا کہ میں اور جماعت احمد یہ یہ ایمان رکھتی ہے کہ مسیح موعود بانی جماعت احمدیہ کی صورت میں آگئے اور اپنے ماننے والوں میں حقیقی اسلام کی تعلیم کو رائج فرما دیا۔ایک جماعت قائم کر دی جو حقیقی اسلام پر عمل کر رہی ہے اور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔میں