خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد 12 145 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014 ء کی حالت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ بھی فرمایا کہ اگر وہ تیری بات نہ مانیں تو کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر لے گا؟ میں نے پھر کہا کہ لیکن خدا تعالیٰ نے یہ کہہ کر بس نہیں کر دیا۔دعاؤں کی قبولیت کو رد نہیں کر دیا بلکہ ان دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا۔اس درد کی تسکین کے سامان کئے اور وہ لوگ جو ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے ، اُن سے برائیوں کو چھڑا کر با اخلاق اور خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے والا بنا دیا۔یہ تبدیلی کوئی دنیاوی طاقت نہیں کر سکتی تھی۔یہ خالص اُس خدا کا فعل تھا جو دعاؤں کو سننے والا اور دلوں پر قبضہ رکھتا ہے۔پھر میں نے بتایا کہ دشمنوں سے حسن سلوک کی بھی ایسی مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائیں کہ جس کی دنیاوی معاملات میں کہیں مثال نہیں مل سکتی۔دشمنوں کو ، اُن دشمنوں کو جنہوں نے مکہ میں دشمنی کی انتہا کی ہوئی تھی ، فتح مکہ کے موقع پر اس طرح معاف فرمایا کہ جس طرح انہوں نے کبھی کوئی غلطی یا شرارت کی ہی نہ ہو۔ہر ایک کا فر کو بھی امن سے قانون کے دائرے کے اندر رہنے کی شرط پر معاف فرما دیا اور اس حسن سلوک کو دیکھ کر بڑے دشمن جو تھے ، بہت بڑے بڑے اور کفر میں بڑھے ہوئے جو تھے، بے اختیار ہو کر بول اُٹھے کہ ایسا جذبہ صرف خدا تعالیٰ کے نبی کا ہی ہو سکتا ہے۔اور یقیناً اسلام برحق ہے۔اور پھر وہ بھی ایمان لے آئے۔(ماخوذ از دلائل النبوة ومعرفة احوال صاحب الشريعة جلد 5 صفحه 58 باب ما قالت الانصارحين امن۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) پھر میں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین فرمایا ہے اور یقیناً آپ رحمت کے انتہائی مقام پر پہنچے ہوئے تھے اور ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جو یقیناً خدا تعالیٰ کے کلام کی سچائی کا ثبوت ہیں جو آپ کی رحمت کی دلیل کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں۔پھر میں نے بتایا کہ اس کے باوجود کہ آپ رحمت للعالمین تھے، اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی اور جنگوں کا جو الزام لگایا جاسکتا ہے اور آجکل بھی اس دنیا میں لگایا جاتا ہے، بی تاریخی حقائق سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جنگوں میں پہل نہیں کی۔مکہ میں ظلم سہے۔جب یہ ظلم ناقابلِ برداشت ہوئے تو مدینہ ہجرت کی۔کبھی بدلے نہیں لئے۔لیکن جب مکہ والوں نے مدینہ پر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے حملہ کیا تو پھر خدا تعالیٰ کے اذن سے جواب دیا جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔وہاں میں نے قرآن کریم کی سورۃ حج کی یہ دو آیات سنائیں کہ أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظلِمُواطَ وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ