خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد 12 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014ء نے یہ بھی بتایا کہ مسیح موعود علیہ السلام جو اسلام کے احیائے نو کے لئے آئے ، اُن کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہیں۔مثال کے طور پر میں نے تین باتیں پیش کیں کہ یہ تین پیشگوئیاں مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں جو آپ کی سچائی کے بارے میں ہیں۔آپ نے فرمایا تھا کہ اس زمانے میں زلزلوں اور طوفانوں کی بہت زیادہ تعداد ہوگی۔(ماخوذ از حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 267 تا 269) جو سچ ثابت ہوئی اور ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ صدیوں کی نسبت سب سے زیادہ اس صدی میں آئے۔پھر آپ نے ایک پیشگوئی روسی حکومت کا تختہ الٹنے کے بارے میں فرمائی تھی کہ زار کا تختہ الٹا جائے گا۔(ماخوذ از براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 152) وہ پیشگوئی سچ ثابت ہوئی۔پھر ایک تیسری پیشگوئی جنگوں کی بتائی۔(ماخوذ از برا بین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 151-152) اور بتایا کہ اب تک ہم دو عالمی جنگیں دیکھ چکے ہیں۔دنیا پھر اس لپیٹ میں آنے کی کوشش کر رہی ہے۔دنیا کے فوجی بجٹ باقی تمام ضروریات کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور صرف فوج بڑھانے اور اسلحہ رکھنے اور فوجی طاقت بننے کی طرف دنیا کی زیادہ توجہ ہو رہی ہے۔اس لئے دنیا کو پھر غور کرنے کی ضرورت ہے۔بدامنی دنیا میں مذہب کی وجہ سے نہیں پھیل رہی بلکہ لالچ اور سیاست اس کی وجوہات ہیں۔پھر میں نے یہ بھی بتایا کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات ہیں۔اگر یہ نہ ہوتیں تو ہندوستان کے ایک دور دراز قصبہ میں رہنے والا اللہ تعالیٰ کے پیغام کو تمام دنیا میں نہ پھیلا سکتا۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت کا نظام قائم ہوا، جس کے تحت یہ مشن آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور یہ جہاں اس زمانے میں خدا تعالیٰ کے وجود کا ثبوت ہے، وہاں جماعت احمدیہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات کا بھی ثبوت ہے۔یہ میں نے بتایا کہ بانی جماعت احمدیہ نے ہم میں یہ ادراک پیدا فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتیں کوئی پرانے قصے نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ آج بھی زندہ ہے اور اپنے نیک بندوں سے بولتا اور نشان دکھاتا ہے۔پس دنیا اس طرف توجہ دے اور اپنی غلطیوں کا الزام خدا اور مذہب کو نہ دے بلکہ اپنے گریبان میں جھانکے۔خدا تعالیٰ دنیا کو توفیق دے کہ اس پر عمل کرے۔میہ اس کا خلاصہ ہے جو میں نے اُن کو کہا۔تقریباً تیس پینتیس منٹ کی میری تقریر تھی۔اس وقت میں بعض تاثرات پیش کرتا ہوں۔لوگوں کے چہروں سے بہر حال لگ رہا تھا، بعض نے