خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 132
خطبات مسرور جلد 12 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء کتنا کامیاب اور مقبول ہوا۔مس گارنر ایک دہریہ اور خدا کی منکر عورت ہے۔اُس نے کہا کہ It was charmfull۔یہ ایک دلکش اور اچھا مضمون تھا۔نہایت اعلیٰ خیالات تھے۔" "نئی صداقت وغیرہ وغیرہ الفاظ تو اکثر نے استعمال کئے۔بہائی مذہب کی ایک عورت نے لیکچر سنا اور ہمارے ساتھ ساتھ مکان کے قریب تک چلی۔وہ کہتی تھی کہ میں بہائی خیالات رکھتی تھی مگر اب آج کا لیکچر سن کر میرے خیالات بدل گئے ہیں۔میں چاہتی ہوں کہ آپ کے زیادہ لیکچر سنوں۔مجھے اگر مہربانی سے بتائیں کہ کب اور کہاں کہاں لیکچر ہوں گے تو میں ضرور آؤں گی۔ایک عیسائی عورت مع اپنی لڑکی کے وہاں آئی۔بڑے خلوص سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پیچھے پیچھے چلی آئی اور درخواست کی کہ میرے مکان پر جمعرات کو چائے کے لئے آئیں۔حضرت نے مصروفیت کا عذر کیا۔مگر اس نے بڑے اصرار اور محبت سے درخواست کو منظور کر لیا اور کہا کہ خواہ کسی وقت آئیں مگر ضرور آئیں۔ایک شخص نے کہا کہ ایسا پیارا مضمون تھا کہ حب الوطنی سے بھی زیادہ پیارا تھا۔(ماخوذاز الفضل 23 اکتوبر 1924 نمبر 45 جلد 12 صفحہ 5-4) اخباروں میں جو ذکر ہوا، ان میں سے ایک اخبار کا ذکر سن لیں۔مانچسٹر گارڈین نے اپنی 24 ستمبر 1924ء کی اشاعت میں لکھا کہ اس کا نفرنس میں ایک ہلچل ڈالنے والا واقعہ، جو اُس وقت ظاہر ہوا ، وہ آج سہ پہر کو اسلام کے ایک نئے فرقے کا ذکر تھا۔نئے فرقہ کا لفظ ہم نے آسانی کے لئے اختیار کیا ہے۔ورنہ یہ لوگ اس کو درست نہیں سمجھتے۔یہ بھی اُس نے وضاحت کر دی۔اس فرقے کی بناء ان کے قول کے بموجب آج سے 34 سال پہلے اس مسیح نے ڈالی جس کی پیشگوئی بائبل اور دوسری کتابوں میں ہے۔اس سلسلے کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے صریح الہام کے ماتحت اس سلسلے کی بنیاد اس لئے رکھی ہے کہ وہ نوع انسان کو اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچائے۔ایک ہندوستان کے باشندے نے جو سفید دستار باندھے ہوئے ہے اور جس کا چہرہ نورانی اور خوش گن ہے۔اور وہ سیاہ داڑھی رکھتا ہے اور جس کا لقب His holiness خلیفة اسبح الحاج مرزا بشیر الدین محمود احمد یا اختصار کے ساتھ خلیفہ اسیح ہے۔مندرجہ بالا تحدی اپنے مضمون میں پیش کی۔جس کا عنوان ہے اسلام میں احمدیہ تحریک“۔آپ کے ایک شاگرد نے جو سرخ رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھا آپ کا پرچہ کمال خوبی کے ساتھ پڑھا۔آپ نے اپنے مضمون کو جس میں