خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد 12 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء بدھ ازم کو ترجیح دیا کرتا تھا۔اب جبکہ میں نے آپ کا مضمون بھی سن لیا ہے اور بدھ ازم کو بھی سنا ہے، میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ واقعی اسلام ہی سب سے بالا تر مذہب ہے۔جس خوبی سے اور جس خوش اسلوبی سے آپ نے اسلام کو پیش کیا اس کا کوئی دوسرا مذ ہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔میرے دل پر اب اس کا گہرا اثر ہے۔“ الفضل 23 اکتوبر 1924 ، جلد 12 نمبر 45 صفحہ 4 کالم (3) پھر بہت ساری عورتیں بھی آئیں اور انہوں نے اس مضمون کی بہت تعریف کی۔ایک عورت کہتی ہے کہ بعض نے مجھے کہا کہ There is a fire in him۔اس میں ایک آگ ہے۔پھر مسز شار پلز نے کہا وہ بھی سیکرٹری تھیں، سیکرٹری کی بیوی بھی تھیں اور انتظامیہ میں بھی شامل تھیں۔کہتی ہیں کہ ایک انگریز میرے پاس آیا اور اُس نے مجھے کہا کہ چائے پر تو مجھے نہیں بلایا، وہاں چائے کا انتظام بھی تھا، مگر مجھے اجازت دو کہ میں اندر آ جاؤں۔میری غرض دراصل اس شخص کو دیکھنا ہے جو ہندوستان سے اسلام کو پیش کرنے کے لئے آیا ہے اور احمدیوں کا سردار ہے۔وہ شخص حضرت صاحب سے ملا، باتیں کیں اور پھر مولوی مبارک علی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے بدھ مذہب کے پرچے بھی سنے اور دوسرے پرچے بھی لیکن یہ تمام پر چوں سے بہتر تھا۔ایک جرمن شخص جو یہاں اُس زمانے میں پروفیسر تھے ، انہوں نے جلسے سے واپسی کے وقت سڑک پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کر ( یہ وہی لگتے ہیں جن کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے لیکن یہاں ذرا تفصیل ہے ) حضرت کے حضور مبارکبا د عرض کی اور کہا، میرے پاس بڑے بڑے انگریز بیٹھے تھے، میں نے دیکھا کہ بعض زانو پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے تھے۔۔Rare ideas۔One can not hear such ideas everyday یعنی یہ نہایت نادر خیالات ہیں۔ایسے خیالات ہر روز سننے میں نہیں آتے۔وہی جرمن پروفیسر روایت کرتے ہیں کہ بعض جگہ لوگ بے اختیار بول پڑتے تھے کہ۔What a beautiful and true principles کیسے خوبصورت اور سچے اصول ہیں۔اور ان جرمن پروفیسر نے خود اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کی کہ یہ موقع احمدیوں کے لئے ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔اور یہ ایسی کامیابی ہے کہ اگر آپ لوگ ہزاروں پاؤنڈ بھی خرچ کر دیتے تو ایسی شہرت اور کامیابی کبھی نہ ہوتی۔مسٹرلین کا ذکر ہوا ہے۔انڈیا آفس کے ایک بڑے عہدیدار تھے۔وہ لیکچرسن رہے تھے لیکن اُن کی بیوی اُس دن نہیں آئی تھیں۔انہوں نے جا کر اپنے گھر میں بیوی سے ذکر کیا تو وہ اگلے دن آئیں اور قافلے کے جولوگ تھے اُن کو ملیں کہ میں کل آ نہیں سکی تھی اور میرے خاوند نے مجھے گھر جا کر بتایا ہے کہ لیکچر