خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد 12 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء پھر ” قانون کے ایک پروفیسر نے بیان کیا کہ جب میں مضمون سن رہا تھا تو یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ دن گویا ایک نئے دور کا آغاز کرنے والا ہے۔پھر کہا، اگر آپ لوگ کسی اور طریق سے ہزاروں ہزار روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی زبردست کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔“ پھر ایک پادری منش نے کہا کہ تین سال ہوئے مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ حضرت مسیح تیرہ حواریوں کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں اور اب میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ خواب پورا ہو گیا۔( میں نے پہلے بارہ حواریوں کا ذکر کیا تھا۔یہ تیرھویں جو وہاں فنکشن کے وقت موجود تھے وہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تھے۔اس طرح تیرہ پورے ہو گئے۔) مس شارپلز جو کانفرنس کی سیکرٹری ہیں ، انہوں نے کہا کہ لوگ اس مضمون کی بہت تعریف کرتے ہیں اور خود ہی بتایا کہ ایک صاحب نے His Holiness کے متعلق کہا کہ یہ اس زمانے کا Luther معلوم ہوتا ہے۔بعض نے کہا کہ ان کے سینہ میں ایک آگ ہے۔ایک نے کہا یہ تمام پر چوں سے بہتر پر چہ تھا۔“ ایک جرمن پروفیسر نے جلسہ کے بعد سڑک پر چلتے ہوئے آگے بڑھ کر حضور کی خدمت میں مبارکباد عرض کی اور کہا میرے پاس بعض بڑے بڑے انگریز بیٹھے کہ رہے تھے ( کہ ) یہ نادر خیالات ہیں جو ہر روز سننے میں نہیں آتے۔“ مسٹرلین جو انڈیا آفس میں ایک بڑے عہدے دار تھے، انہوں نے تسلیم کیا کہ "خلیفتہ مسیح کا پرچہ سب سے اعلیٰ اور بہترین پرچہ تھا“۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 453 مطبوعہ ربوہ ) پھر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی " بیان کرتے ہیں۔ایک صاحب حضور کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے ہندوستان میں تیس سال کام کیا ہے اور مسلمانوں کے حالات اور دلائل کا مطالعہ کیا ہے۔کیونکہ میں ایک مشنری کی حیثیت سے ہندوستان میں رہا ہوں مگر جس خوبی، صفائی اور لطافت سے آپ نے آج کے مضمون کو پیش کیا ہے، میں نے اس سے پہلے کبھی کسی جگہ بھی نہیں سنا۔مجھے اس مضمون کوسن کر کیا بلحاظ خیالات اور کیا بلحاظ ترتیب اور کیا بلحاظ دلائل بہت گہرا اثر ہوا ہے۔پھر ایک صاحب نے کہا جو یہ مضمون سننے کے لئے فرانس سے آئے ہوئے تھے کہ میں عیسائیت پر اسلام کو ترجیح دیا کرتا تھا (عیسائیت کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔اسلام کو ترجیح دیتے تھے۔) اور اسلام پر