خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 123
خطبات مسرور جلد 12 123 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء بہت جگہ پھیلی ہوئی تھی۔مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بھی دعوت دی جائے تا کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوں اور اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔نمائش کے منتظمین نے جن میں مستشرقین بھی شامل تھے اس خیال سے اتفاق کیا اور لندن یونیورسٹی کا علوم شرقیہ کا سکول یعنی School of oriental studies جو ہے اُس کے زیر انتظام کا نفرنس کے وسیع پیمانے پر انعقاد کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی اور کا نفرنس کا مقام امپیریل انسٹی ٹیوٹ لندن مقرر کیا گیا اور 22 ستمبر 1924 ء سے 3 اکتوبر 1924 ء تک کی تاریخیں رکھی گئیں اور کمیٹی نے ان مذاہب کے مقررین کو منتخب کیا اور اُن کو دعوت دی۔ہندومت، اسلام، بدھ ازم، پارسی مذہب، جینی مذہب ، سکھ ازم، تصوف، برہمو سماج ، آریہ سماج، کنفیوشس ازم وغیرہ۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 422 مطبوعہ ربوہ ) اُس زمانے میں حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو 1923ء کے آغاز میں ہی لنڈن میں آئے تھے۔وہ لندن میں تھے لیکن آپ کو اس کا نفرنس کا علم نہیں ہو سکا تھا۔جب کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ مقررین بھی تجویز ہو چکے۔( یہ سارا کام ہو چکا تھا اُس وقت ) اور 1924ء کا کچھ حصہ بھی گزر گیا تو کسی نے ایک جگہ بیٹھ کر یونہی برسبیل تذکرہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر کے سامنے ذکر کیا جس پر آپ گئے اور کمیٹی کے جوائنٹ سیکرٹری ایم ایم شار پلز سے ملے۔انہوں نے جب آپ کی باتیں سنیں تو محسوس کیا کہ اسلام کے متعلق احمدی جماعت کا نقطۂ نگاہ ضرور پیش ہونا چاہئے۔تو کمیٹی میں اس کا ذکر ہوا۔کمیٹی کے نائب صدر ڈاکٹر سر تھامس ڈبلیو آرنلڈ ) Dr۔Sir Thomas Walker Arnold ) اُن کی شخصیت سے اور اُن کے علم سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ مقررین کے بارے میں بھی نیر صاحب سے ضرور مشورہ کر لیا جائے۔آجکل بعض دفعہ ہم لوگ ہمت ہار بیٹھتے ہیں کہ جی اب وقت گزر گیا، کچھ نہیں ہو سکتا۔اُس وقت انہوں نے سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہمت کی ، گئے اور ساری انتظامیہ کو قائل کر لیا۔چنانچہ نیز صاحب کے ساتھ پھر اس پروگرام پر نظر ثانی ہوئی، اور ہندومت اور بدھ کے نمائندوں کے نام بھی اور اس کے علاوہ تصوف کی نمائندگی کے لئے بھی نیر صاحب سے مشورہ ہوا اور تصوف کے لئے حضرت صوفی حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لکھا گیا۔مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ حافظ روشن علی صاحب نہیں آ سکتے جب تک حضرت خلیفہ المسیح الثانی جو امام جماعت احمدیہ ہیں، کی اجازت حاصل نہ کی جائے۔تو کمیٹی میں جو نہی یہ نام پیش ہوئے تو ڈاکٹر