خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 122
خطبات مسرور جلد 12 122 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء اُس وقت آپ اپنے ساتھ گیارہ افراد کا وفد لے کے آئے تھے اور یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ خود تو حضرت مصلح موعود نے اپنا خرچ ذاتی طور پر کیا ، باقیوں کے لئے قرض لینا پڑا تھا۔بہر حال پہلے تو یہاں نہ آنے کا فیصلہ ہوا، پھر دعا اور استخارے اور جماعت سے مشورے کے بعد یہ سفر ہوا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے نظارے ہمیں ہر جگہ نظر آئے۔یہ خلیفہ اُسیح کا پہلا دورہ یورپ تھا اور اس کے ساتھ عرب ممالک بھی شامل تھے۔شام، مصر، فلسطین وغیرہ عرب ممالک میں تو سوائے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے کسی بھی خلیفہ کا دور نہیں ہوا۔اس کے بعد تو حالات بگڑتے چلے گئے اور پابندیاں لگتی چلی گئیں۔اس وقت میں اس کانفرنس کے مختصر حالات اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بارے میں انگریزوں کے تاثرات بھی پیش کروں گا۔یہ تاثرات جہاں آپ کی ذات کے علمی ہونے اور اللہ تعالیٰ کی خاص تائید ساتھ ہونے کا اظہار کرتے ہیں وہیں اس میں بعض تاریخی پہلو بھی ہیں جو ہمارے نو جوانوں کو پتہ ہونے چاہئیں۔اُس زمانے میں سفر تو بحری جہاز کے ذریعہ ہوتے تھے اور سفر میں کئی دن لگتے تھے۔ایک روز حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرسٹ اور سیکنڈ کلاس کے درمیان ڈیک پر نماز باجماعت پڑھا رہے تھے۔نماز کے بعد فارغ ہو کر بیٹھے تھے۔ساتھ ساتھی بھی بیٹھے تھے تو جہاز کے ڈاکٹر کا وہاں سے گزر ہوا جو Italian تھا۔اس نے آپ کو بیٹھے دیکھا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ Jesus Christ and twelve disciples یعنی یسوع مسیح اور اُس کے بارہ حواری۔یہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی روایت ہے۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ یہ سنا تو میں حیرت زدہ رہ گیا کہ ڈاکٹر جو تھا Italian تھا اور اس لحاظ سے پوپ کی بستی کا رہنے والا تھا اُس نے کیسی صحیح اور عارفانہ بات کی ہے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 437 مطبوعہ ربوہ ) حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جو گیارہ ساتھی تھے ان میں بارہویں چوہدری محمد شریف صاحب وکیل تھے جو اپنے طور پر سفر میں شامل ہوئے تھے۔اب اس کا نفرنس جو د یھبلے کا نفرنس کہلاتی ہے، اس کا تاریخی پس منظر اور اغراض و مقاصد بھی پیش کرتا ہوں۔شروع 1924 ء میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے سلسلہ میں سوشلسٹ لیڈر ولیم لافٹس ہیئر (William Loftus Hare) نے یہ تجویز کی کہ اس عالمی نمائش کے ساتھ ایک مذہبی کانفرنس بھی منعقد کی جائے۔جس میں برطانوی مملکت کے ( اُس زمانے میں برطانیہ کی حکومت کی کالونیز تھیں،