خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد 12 121 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014 ء بمطابق 28 تبلیغ 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ جمعہ میں میں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشگوئی کے حوالے سے بات کی تھی اور اس ضمن میں آپ کے علوم ظاہری و باطنی سے پر کئے جانے کا ذکر ہوا تھا اور یہ بھی کہ آپ کے علم و معرفت اور قرآن کریم کے تفسیری نکات کا غیروں پر بھی اثر تھا اور اس بات کا انہوں نے بر ملا اظہار کیا۔یہ اظہار، یہ کارنامے تو اتنے وسیع ہیں کہ مہینوں شاید سالوں بھی یہ ذکر چل سکتا ہے جو ظاہر ہے بیان کرنا ممکن نہیں۔لیکن ایک بات کا میں گزشتہ خطبہ میں ذکر کرنا چاہتا تھا جو وقت کی کمی کی وجہ سے میں نہیں کر سکا۔آج اسی کا ذکر کروں گا۔یہ بات آج سے 90 سال پہلے کی ہے اور اس شہر لندن سے اس کا تعلق ہے۔آپ میں سے بہت سے جانتے ہوں گے کہ ستمبر 1924ء میں ایک مذاہب کا نفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی خود بنفس نفیس شامل ہوئے تھے۔آجکل تو ہمارے تعارف بھی ہیں، تعلقات بھی ہیں اور احمدیوں پر دنیا میں مختلف جگہوں پر جو ظلم ہو رہا ہے، اُس کی وجہ سے بہت سی حقوق انسانی کی جو تنظیمیں ہیں ، اُن کی بھی نظر ہے۔پھر ان تعلقات کی وجہ سے پارلیمنٹ کے ممبران اور پڑھے لکھے طبقے سے ہمارا یہاں بھی اور دنیا میں بھی تعارف ہے۔لیکن اُس زمانے میں یہ سب کچھ نہیں تھا۔مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے جو خاص حالات پیدا فرمائے اور خود کا نفرنس کرنے والی انتظامیہ نے مشورے کے بعد آپ سے لندن آ کر کانفرنس میں دین اسلام کے بارے میں کہنے کے لئے درخواست کی۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید ونصرت لئے ہوئے تھی۔اور پھر جب ہم اُن حالات کو دیکھتے ہیں جو مالی لحاظ سے جماعت کے حالات تھے۔اور