خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 104
خطبات مسرور جلد 12 104 خطبه جمعه فرموده مورخه 14 فروری 2014ء سچا تعلق جوڑو اور جماعت کے ہمیشہ وفادار رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آئے ہو تو اُس کی قدر کرو۔اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں میں بھی ایمان قائم رکھے اور بڑھاتا چلا جائے۔اس وقت ایک افسوسناک خبر ہے۔میں نمازوں کے بعد دو جنازے پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ مکرم رضی الدین صاحب ابن مکرم محمد حسین صاحب کا ہے، جو 8 فروری 2014ء کو اپنے گھر سے کام پر جانے کے لئے نکلے تھے کہ ان کو شہید کر دیا گیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ کراچی میں تھے۔ان کی اہلیہ اور بھتیجا بھی ان کے ہمراہ تھے۔کراچی میں اُس دن ہڑتال تھی اور ان کی اہلیہ نے انہیں کہا بھی کہ کام پر نہ جائیں لیکن یہ پھر بھی کام پر جانے کے لئے تیار ہوئے۔ابھی گھر سے کچھ فاصلے پر ہی پہنچے تھے کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار آئے اور انہوں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ایک گولی آپ کی گردن میں لگی جس نے سانس کی نالی کو زخمی کر دیا۔بھتیجا ان کا ساتھ تھا، وہ تو خیر اطلاع دینے کے لئے گھر چلا گیا۔اہلیہ ان کوفوری طور پر ہسپتال لے گئیں جہاں ڈاکٹر نے ہرممکن کوشش کی لیکن مکرم رضی الدین صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش فرما گئے۔اِنَّا لِلهِ وَاِنّا إلَيْهِ رَاجِعُونَ محمد حسین مختار صاحب کے یہ بیٹے تھے۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کا تعلق مینڈ رضلع پونچھ کشمیر سے تھا۔مینڈر کے دو بزرگان نے قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی اور واپس آکر تبلیغ شروع کر دی جس کے نتیجہ میں شہید مرحوم کے پڑدادا مکرم فتح محمد صاحب نے بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت کی توفیق پائی تھی۔شہید مرحوم کے دادا کا نام مکرم مختار احمد صاحب جبکہ والد مکرم محمدحسین مختار ہیں۔قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان گوئی ضلع کوٹلی میں آباد ہوا۔بعد میں 1992ء سے کراچی میں رہائش اختیار کر لی۔ایف۔اے تک تعلیم حاصل کی۔ایک فیکٹری میں چھ سال سے ملازم تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 26 سال تھی۔نہایت ہمدرد اور مخلص انسان تھے۔ہر ایک سے خوش دلی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔خلافت سے عشق تھا۔عہد یداران اور نظامِ جماعت کا بہت احترام کرتے تھے۔کسی سے جھگڑے کی نوبت کبھی نہیں آئی۔شہادت کے بعد غیر از جماعت دوست بھی اظہار کرتے رہے کہ کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی، نہ ہی کبھی کسی کو شکایت کا موقع دیا۔بار بار شہادت کی تمنا کیا کرتے تھے۔شہادت سے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک لڑکا کلہاڑی لے کر تعاقب کر رہا ہے اور اچانک وار کر دیتا ہے تو اس سے آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔شہادت سے دو دن قبل چھ فروری کو ان کی اہلیہ محترمہ نے خواب میں دیکھا کہ میرے خاوند شہید مرحوم کی شادی ہو رہی ہے۔پھر اچانک دیکھتی ہیں کہ گھر جنازہ پڑا ہوا ہے۔کہتی ہیں میں بھاگ کر اپنے والدین کے گھر جاتی ہوں جو قریب ہی تھا تو دیکھا کہ ایک جنازہ وہاں بھی پڑا ہوا ہے۔پھر ان کی آنکھ کھل گئی۔شہید مرحوم کے والد نے بھی خواب دیکھی تھی کہ بڑا بیٹا