خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 101

خطبات مسرور جلد 12 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء اور فرمایا تھا کہ تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور اُس کا نام محمد رکھنا۔یہ بات میرے والد صاحب نے مجھے 2007 ء میں بتائی۔اُس وقت تک میں احمدیت کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔پھر سیر یا میں ایک بار میرے چھوٹے بھائی نے جماعت کی ویب سائٹ کے بارے میں بتایا جہاں میں نے جماعت کے عقائد اور تفسیر کا مطالعہ کیا۔یہ کم و بیش وہی عقائد تھے جن کا ہم بچپن میں اپنے دوستوں کے ساتھ ذکر کیا کرتے تھے۔مثلاً یہ کہ دجال سے مراد عصر حاضر کا مغربی ممالک کا صنعتی انقلاب اور مادی کشش، نیز عیسائیت کا پر چار کرنے والی قوتیں ہیں۔پھر مجھے لکھتے ہیں کہ یقین کریں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھتے وقت حقائق و معارف اور حضور کی روزِ روشن کی طرح واضح صداقت کو پڑھ کر رویا کرتا تھا۔ہر لفظ میری روح میں اتر جاتا تھا۔یہ متاع ایمان ایسی دولت ہے جس کا بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔جماعت کے عقائد کا دوسروں پر غلبہ بھی واضح تھا۔یقینا جو جماعت اسلام کے صحیح عقائد پیش کرتی ہے، مثلاً قرآن کریم کا ناسخ و منسوخ سے پاک ہونا، اس کی عقلی اور منطقی تفسیر ، عصمت انبیاء، ختم نبوت کی تفسیر ، اسراء اور معراج کی حقیقت، وہ صرف مسیح موعود کی جماعت ہی کھول سکتی ہے۔گو آج اُسے جزوی غلبہ حاصل ہے لیکن مستقبل قریب میں اُسے کامل غلبہ حاصل ہوگا۔دمشق کے ایک دوست رضوان صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے دمشق یونیورسٹی سے میتھمیٹک (Mathematic) اور آئی ٹی (IT) کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کمپیوٹر کی مرمت کا کام شروع کیا اور اس کے ساتھ دمشق کی بعض مساجد میں نوجوانوں کو قرآن پڑھانے لگا۔دینی علوم میں نے کسی ادارے میں نہیں حاصل کئے بلکہ ذاتی کوشش اور مطالعہ سے اخذ کئے۔ایک واقعہ کے بعد میں معرفتِ الہی کے حصول کی کوشش میں لگ گیا۔تو اُس کے بعد جو پہلا رؤیا دیکھا اُس میں میرے لئے پیغام تھا کہ قرآنِ کریم ہی علوم و معارف کا خزانہ ہے اور اپنی زندگی کی تمام مشکلات کا حل اس میں تلاش کرو۔میں نے جب قرآن کریم پر غور کیا تو اُس کے فیوض وعلوم سے میرا دامن بھر گیا۔ایک رات میں نماز میں قول خدا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا (الكهف : 105) سے بہت ڈرا۔اور خدا تعالیٰ سے ہی سیدھے راستے کی ہدایت چاہی۔اُس وقت دونو جوانوں نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور قادیانیت کے بارے میں سوال کیا۔میں نے قادیانیت کے کافر ہونے کے بارے میں ایک کتاب لی اور انہیں سنانے لگا۔اچانک مجھے ایک عجیب احساس ہوا اور میں نے کتاب بند کر دی اور کہا مجھے لگتا ہے کہ کوئی بڑی غلطی کر رہا ہوں۔کیونکہ میں ایسی جماعت کے بارے میں بتا رہا ہوں جس کے ساتھ